خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 4 اہلکار زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے کوہاٹ کی شادی پور چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا ، پولیس کی جوابی کارروائی پر ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔
زخمی ہونے والے 4 اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
گزشتہ روز ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 کسٹم اہلکار شہید ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ قریشی موڑ ابھایہ پل کے قریب تھانہ گومل یونیورسٹی کی حدود میں پیش آیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹریفک پولیس موبائل پر حملہ
اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کا دوسرا واقعہ تھانہ ڈیرہ ٹاؤن کی حدود مفتی محمود چوک کے قریب پیش آیا جہاں ٹریفک پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا۔ جس میں کانسٹیبل ڈرائیور محمد حبیب شہید اور ہیڈ کانسٹیبل سبحان خان شدید زخمی ہو گئے۔
صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، یہ پچھلے 10 دنوں کے دوران صوبے میں ٹریفک پولیس کی موبائل پر دوسرا حملہ ہے۔
گزشتہ ماہ 28 ستمبر 2026 کو ضلع ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 2 راہ گیر زخمی ہو گئے تھے۔
واقعے سے متعلق ٹانک کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے ترجمان نے ہم نیوز کو بتایا تھا کہ شہید ہونے والے اہلکاروں میں کانسٹیبل سلیم شاہ، کانسٹیبل گل امین اور ڈرائیور فیاض الدین شامل ہیں۔
تھانہ سٹی پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل سوار حملہ آور موقع سے فرار ہوتے وقت پولیس اہلکاروں کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے تھے۔
لکی مروت میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے 3 افراد شہید
اس سے ایک دن قبل 27 ستمبر کو ضلع لکی مروت میں دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد شہید جبکہ 3 زخمی ہو گئے تھے۔
26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد شہید جبکہ 35 زخمی ہو ئے تھے۔
18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 21 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔


