وزیراعظم شہبازشریف سے حکومتی مذاکراتی ٹیم نے ملاقات میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان مذاکرات میں ڈیڈ لاک ختم کرانے کیلئے کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں اہم اجلاس ہوا، جس میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقات اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق رانا ثنا اللہ، امیر مقام، عطا تارڑ اور طارق فضل چوہدری نے اجلاس میں شرکت کی اور وزیراعظم کو مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے بریفنگ دی۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم نے وزیراعظم کو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہونے والی گفتگو، ان کے مؤقف اور سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال سے آگاہ کیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں موجود ڈیڈلاک ختم کرانے اور تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز اور تحفظات سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی مذاکراتی ٹیم کو مولانا فضل الرحمان سے رابطے میں رہنے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
حکومتی و اپوزیشن ارکان کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
گزشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں عمرہ کی ادائیگی پر مبارکباد دی۔
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اسلام آباد میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر ایاز صادق نے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ان کے لیے بھائیوں کی طرح ہیں، ان کے صاحبزادے ان کے کولیگ اور بھتیجے بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے ان کے سیاسی تعلقات سے بڑھ کر ذاتی اور خاندانی رشتے ہیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ بنیادی طور پر انہیں عمرے کی مبارکباد دینے آئے تھے تاہم ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور اہم سیاسی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ “امید پر دنیا قائم ہے”، پاکستان کے لیے اللہ راستے بناتے جارہا ہے اور ملک کی بہتری کے لیے سیاسی راستہ نکالا جارہا ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ بیک ڈور رابطے جاری رہتے ہیں اور قومی اسمبلی کے ساتھیوں سے بھی فون پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان کے لیے جو بہتر ہوگا، انشاء اللہ وہی راستہ نکلے گا۔
اس سے ایک دن قبل مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی ملاقات کی تھی، اس ملاقات میں علامہ راجہ ناصر عباس، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے تھے، مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا لطف الرحمان، محمد اسلم غوری، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور اخونزادہ حسین بھی ملاقات میں موجود تھے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے ملاقات میں آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز دی تھی۔
سیاسی معاملات پر مشاورت جاری
حکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے رابطے کو موجودہ سیاسی صورتحال میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق سیاسی معاملات کو بات چیت اور مشاورت کے ذریعے آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو مذاکراتی عمل میں ہونے والی پیش رفت، فریقین کے مؤقف اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے مذاکراتی ٹیم کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ سیاسی رہنماؤں سے رابطہ برقرار رکھا جائے اور معاملات کو مشاورت اور اتفاق رائے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال، حکومت کی حکمت عملی اور آئندہ رابطوں سے متعلق بھی تبادلہ خیال ہوا۔



