وزارت اطلاعات و نشریات نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ کے طیاروں کے استعمال کی خبر بے بنیاد اور جھوٹی قرار دے دی۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو مکمل طور پر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ کے جنگی طیارے یمن میں حوثی اہداف کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائی میں استعمال کیے جارہے ہیں۔
وزارت اطلاعات کے مطابق حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ کے طیاروں کا استعمال نہیں کیا گیا، وزارت نے عالمی میڈیا کو خبردار کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کے ممکنہ استعمال یا تعیناتی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں نشر کرنے سے گریز کیا جائے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق نیویارک ٹائمز کی خبر مکمل طور پر جھوٹی اور بے بنیاد ہے، اگر کسی مرحلے پر پاکستانی افواج کی مزید تعیناتی یا کسی فوجی کارروائی کی ضرورت پیش آئی تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام خود فراہم کریں گے۔
نیویارک ٹائمز نے کیا دعویٰ کیا تھا؟
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں ریاض میں ہونے والے دھماکوں اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ کے طیارے سعودی عرب سے حوثی اہداف کے خلاف کارروائی میں استعمال کیے جارہے ہیں۔
رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی جب سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض سمیت مختلف علاقوں کی جانب داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی اطلاعات دی تھیں جبکہ حوثیوں نے سعودی دارالحکومت اور دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے تھے۔
تاہم ان دعوؤں پاکستان وزارت اطلاعات نے واضح طور پر مسترد کردیا ہے، اس لیے پاکستانی طیاروں کی حوثیوں کے خلاف کارروائی میں شرکت کو فی الحال مصدقہ خبر کے طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔
𝐅𝐚𝐜𝐭 𝐂𝐡𝐞𝐜𝐤 | 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐫𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐁𝐫𝐨𝐚𝐝𝐜𝐚𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠
▪️ NYT above referred story attributing employment of PAF aircraft against Houthis is fake and fabricated. International Media houses are again asked to avoid speculative reporting with regards to employment of Pakistan’s Military Forces under Makkah Joint Defence Agreement.
▪️ Details of any employment, if necessary will be given by concerned authorities.
𝐓𝐫𝐮𝐭𝐡 𝐏𝐫𝐞𝐯𝐚𝐢𝐥𝐬 𝐨𝐯𝐞𝐫 𝐅𝐚𝐥𝐬𝐞𝐡𝐨𝐨𝐝
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) October 8, 2026
معاملہ مکہ دفاعی معاہدے سے کیسے جڑا؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرنے اور اجتماعی دفاع کے اصول پر تعاون کا عزم کیا گیا، پاکستان نے اس معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے بعد مکہ دفاعی معاہدے کا عملی امتحان شروع ہوا۔ 5 اکتوبر کو ریاض میں معاہدے کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں اجتماعی دفاعی وعدوں پر عملی پیش رفت اور سعودی عرب میں متعلقہ فوجی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی کے اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
اہم پس منظر
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستانی فوجی اثاثوں سے متعلق حوثی حملوں کے حوالے سے غیر مصدقہ دعوے سامنے آئے ہوں۔ گزشتہ ماہ وزارت اطلاعات نے ان اطلاعات کو بھی مسترد کیا تھا کہ حوثیوں کے میزائل حملے میں سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز ایئربیس پر موجود پاکستانی JF-17 طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزارت نے اس وقت بھی کہا تھا کہ کسی معتبر یا سرکاری ذریعے نے پاکستانی طیاروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں دی۔
دوسری جانب پاکستان دفتر خارجہ نے مکہ معاہدے کے حوالے سے مسلسل مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کا مقصد سعودی عرب سمیت رکن ممالک کی دفاعی صلاحیت اور اجتماعی مزاحمت مضبوط کرنا ہے نہ کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا۔



