پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد نے گزشتہ روز ہنگامی اجلاس میں مکہ اور مدینہ سمیت دیگر سعودی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب میں فوجی دستے فوری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ تینوں ممالک نے اس بات کی توثیق کی کہ معاہدے میں شامل ہر ملک کی سلامتی تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا ایک لازمی جزو ہے۔
Ministry of Foreign Affairs
(Office of the Spokesperson)Joint Statement: Emergency Meeting of the Strategic Political and Defense Committee of the Makkah Alliance for Defense Riyadh – 5 October 2026
The Kingdom of Saudi Arabia, the Islamic Republic of Pakistan, and the Republic of Türkiye convened an emergency meeting of the Strategic-Political and Defense Committee of the Makkah Alliance for Defense in Riyadh on 5 October 2026 to address the security developments and threats facing the Kingdom of Saudi Arabia.
As part of the institutional development of the Makkah Alliance for Defense, the Committee decided to appoint His Excellency Lieutenant General Nauman Mahmood (Ret.) of the Islamic Republic of Pakistan as the first Secretary-General for a three-year term. The Parties welcomed His Excellency, wished him every success in the discharge of his duties, and expressed their confidence in his contribution to advancing the Alliance and achieving its objectives.
The Parties also condemned in the strongest terms the attempted targeting of Makkah and Madinah, as well as the continuing attacks targeting cities and civilian and economic facilities in the Kingdom, reaffirming their unequivocal rejection of any attack or threat against the Kingdom’s security and territorial integrity.
The Islamic Republic of Pakistan and the Republic of Türkiye commended the vigilance and readiness of the Saudi Armed Forces, as well as the professionalism and high level of competence they have demonstrated in countering the threats and attacks facing the Kingdom and in safeguarding its security and territorial integrity.
The Committee reviewed the outcomes of the political and military consultations preceding the meeting and approved the recommendations submitted to it, affirming that the Makkah Alliance for Defense embodies a firm commitment to collective defense and a unified position in confronting threats.
The Committee decided to move immediately to the practical implementation of the collective defense commitments and to take the necessary measures to provide the agreed military forces and capabilities and ensure their rapid deployment in the Kingdom, in accordance with the approved arrangements and the national legislation of the Parties, thereby enhancing readiness, military integration, and the collective capacity to confront and counter threats.
The Parties affirmed that the security of each Party is an integral part of the collective security of the three countries, and that translating the Makkah Agreement for Joint Defense into practical measures demonstrates the credibility of the commitment to collective defense, strengthens the effectiveness of deterrence, and reaffirms the unity and determination of our three countries to defend their security, sovereignty, and territorial integrity, in accordance with the provisions of the Agreement.
Riyadh
October 5,2026
275/2026— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) October 5, 2026
رواں سال 7 اگست کو مکہ میں طے پانے والے اس معاہدے میں تینوں ممالک نے کہا گیا تھا کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔
معاہدے کے بعد کے دنوں میں یمن کے حوثیوں باغیوں نے نہ صرف بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی پر قبضہ کر کے آبنائے باب المندب سے تیل کی سپلائی متاثر کی بلکہ سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ سمیت متعدد شہروں پر بھی حملے کیے۔
ان حملوں کی پاکستان نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہو گا جو حرمین شریفین کے لیے جان بھی قربان نہ کرنے کے لیے تیار ہو۔
حملوں میں شدت کے بعد سعودی اتحاد نے حوثیوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا جس میں خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے یمنی فوج کو فضائی جنگ میں امداد فراہم کی۔ یمنی فوج کے مطابق اس بڑے آپریشن کا مقصد یمن کے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقے بازیاب کرانا ہے۔
کیا پاکستان حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی بھی کرے گا؟
سعودی آپریشن کے آغاز کے ایک روز بعد مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹیجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں معاہدے کے مطابق سعودی عرب کے دفاع کے لیے جنگی امداد اور فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ ہوا۔
فوجی دستے بھیجنے کے فیصلے سے یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا پاکستان حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی بھی کرے گا؟ اس کا جواب وزیر دفاع خواجہ آصف اور دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ریٹائرڈ) زاہد محمود کی میڈیا سے گفتگو میں ملتا ہے۔
’ہم یہاں موجود ہیں، لیکن فوجیں سعودی عرب کی لڑ رہی ہیں،‘ خواجہ آصف
خواجہ آصف نے جیوز نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں سامنے آنے والی تفصیل کے مطابق سعودی اتحاد نے حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے اور ان کے قبضے سے کچھ علاقے بھی بازیاب کرائے ہیں جبکہ حوثیوں نے اس وقت پسپائی اختیار کی ہوئی ہے۔
یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی افواج لڑ رہی ہیں،اور حو ثیوں سے علاقے واپس لیے ہیں ۔حوثیوں نے اس وقت پسپائی اختیار کی ہوئی ہے۔ یمن میں سعودی افواج لڑ رہی ہیں لیکن ہم ہر طرح کی مدد کے لیے موجود ہیں۔ترکیے اور پاکستان کی افواج سپورٹ کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف https://t.co/mby077XVdZ
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) October 5, 2026
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ”یہ میٹنگ اس مقصد کے لیے نہیں تھی بلکہ ہم نے معاہدے کے تحت تنظیمی ڈھانچے کو باقاعدہ شکل دی ہے۔“
باغیوں کے خلاف جنگ میں ترکیہ اور پاکستان کی ’آپریشنل سطح‘ پر شرکت کے سوال پر وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ”دونوں ممالک یہاں موجود ہیں، لیکن فوجیں سعودی عرب کی اپنی لڑ رہی ہیں۔۔۔ہم یہاں پر موجود ہیں اور جس قسم کی مدد کی ان (سعودی عرب) کو ضرورت ہے، وہ مہیا کی جا رہی ہے۔“
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”ترکیہ اور پاکستان کی افواج ایک اسپورٹ کا کردار ادا کر رہی ہیں اور بلاشبہ ہم ریکونسنس (ریکی) وغیرہ میں انوالو ہیں لیکن عملی طور پر سعودی فوجیں کی لڑ رہی ہیں اور وہی علاقے واپس فتح کر رہے ہیں۔“
’وقت آیا تو کارروائی بھی کریں گے‘
دوسری جانب دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ریٹائرڈ) زاہد محمود سے جب العربیہ کے صحافی نے سوال کیا کہ کیا پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی بھی کرے گا، تو انہوں نے واضح کیا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے کہہ چکے ہیں کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کریگا۔
On Joint Mecca Defence pact in Programme “Global News Today’ on Al Arabiya English, presenter Tom Burges Watson.
@AlArabiya_Eng @AJEnglish
#SaudiArabia #Pakistan #Breaking #Turkey— Zahid Mahmood (@zahidm63) October 5, 2026
انہوں نے کہا کہ ”اگر حوثی سعودی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔۔۔اور پاکستان کو لگتا ہے کہ سعودی عرب کی مدد کرنے کا وقت آگیا ہے تو بلاشبہ پاکستان اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔“
قبل ازیں خبر رساں ادارے رائٹرز نے جمعہ کو ایک رپورٹ میں ذرائع سے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ نے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف آپریشن سے قبل جنگی سامان مہیا کیا۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ںے سعودی عرب میں 30 سے 40 ہزار فوجی بھی تعینات کیے جبکہ باغیوں کے خلاف یمنی فوج کی اسپورٹ کیلئے پاکستانی جنگی ماہرین بھی گراؤنڈ پر موجود ہیں۔
تاہم وفاقی وزارتِ اطلاعات نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں اس حوالے سے رائٹرز کی رپورٹس کی تردید کر دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کہ ’من گھڑت‘ اعداد و شمار پھیلانے کے بجائے رائٹرز کے لیے موضوع ہو گا کے اس معاملے میں دفتر خارجہ اور متعلقہ حکام کے سرکاری بیانات پر انحصار کیا جائے۔
’سعودی عرب کے خلاف جارحیت پر تینوں ممالک متحد ہیں‘
تینوں ممالک کی میٹںگ کے بعد ایکس پر جاری ایک بیان میں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے ہنگامی اجلاس نے سعودی عرب اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے والی مجرمانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے میں تینوں ممالک کے باہمی اتحاد اور یکساں مؤقف کی توثیق کی۔
The Emergency Meeting of the Strategic Political and Defense Committee under the Makkah Alliance for Defense reaffirmed the solidarity and unity of our countries in confronting the heinous attacks against the Kingdom and the holy sites. The committee agreed to activate collective deterrence measures within the framework of the Alliance in response to the attacks and all those responsible for them.
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) October 5, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس نے مکہ دفاعی اتحاد کے دائرہ کار میں سعودی عرب کے خلاف جارحیت اور اس کے پسِ پردہ موجود تمام عناصر کے خلاف اجتماعی دفاعی و تادیبی اقدامات (اجتماعی ڈیٹرنس) کو فعال کرنے کا اعادہ کیا۔
سینئر صحافی باقر سجاد کے مطابق سلمان بن خالد نے حوثیوں یا ان کی جارحیت کا باقاعدہ ذکر کیے بغیر کیا کہ تین ممالک کا یہ اتحاد سعودی عرب کے خلاف جارحیت اور اس کے پیچھے موجود تمام عناصر کے خلاف ہے۔
Saudi Defense Minister clarifies against whom this alliance is: 1. “aggression” – not difficult to make out that it’s an implied reference to Houthis. 2. “and against all those standing behind them.”
So it’s clearly not against Houthis, it has a much broader scope— Baqir Sajjad (@baqirsajjad) October 6, 2026
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دفاعی اتحاد صرف حوثی جارحیت تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ اختیار اس سے وسیع ہے۔
یمن تنازع کے پرامن حل پر بھی بات ہوئی، ترکیہ
اجلاس کے بارے میں ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک کے اتحاد نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے تعاون اور ساتھ ہی ساتھ بات چیت کے ذریعے یمن تنازع کے پرامن حل کی تلاش پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
Turkish Foreign Minister Hakan Fidan says the Mecca Defense Alliance has discussed support for Saudi Arabia’s defense while exploring a peaceful resolution to the Yemen conflict through dialogue. https://t.co/n6vCMTo7oL
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) October 5, 2026
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ” ہم نے ہر پہلو سے اس بات کا بغور جائزہ لیا کہ یمن کے معاملے میں، اور خاص طور پر سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے، کس قسم کی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے اور اس تنازع کو پرامن طریقے اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ”سعودی عرب اس مسئلے کے حل کے لیے واقعی تعمیری رویہ اپنائے ہوئے ہے، اور اجلاس میں ہمیں ان کے نمائندے کو ایک بار پھر سننے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملا۔“
تاہم اجلاس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں کی تعنیاتی کے فیصلے پر سینیئر ترک صحافی رجب سوئیلو نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کسی دوسرے ملک میں فوجی دستے تعینات نہیں کر سکتا۔
Turkey cannot deploy military forces to a foreign country without the parliament’s authorisation.
The exception could be military training under a bilateral deal.
— Ragıp Soylu (@ragipsoylu) October 5, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ایسا صرف دوطرفہ معاہدے کے تحت فوجی تربیت کی صورت میں ہی ممکن ہے کہ ترکیہ کی فوج کسی دوسرے ملک میں تعینات ہو۔
’مکہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ کا نیٹو بن سکتا ہے‘
معاہدے میں شامل ممالک کے ہنگامی اجلاس پر کمنٹ کرتے ہوئے امریکی نمائندے جو ولسن کا کہنا تھا کہ ’مکہ دفاعی اتحاد میں مشرقِ وسطیٰ کا ’نیٹو‘ بننے کی صلاحیت موجود ہے۔
The Mecca Defense Alliance has the potential to be the NATO of the Middle East. I am grateful to our allies Türkiye, Pakistan, and Saudi Arabia for activating the alliance in the face of Houthi Iranian-backed aggression.
— Joe Wilson (@RepJoeWilson) October 5, 2026
انہوں نے کہا کہ وہ ”ایران کی حمایت یافتہ حوثی جارحیت“ کے خلاف اس اتحاد کو فعال کرنے پر امریکی اتحادیوں یعنی ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
سعودی عرب کیساتھ دفاعی معاہدوں کی پاسداری کریں گے، امریکا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب پر حملہ کیا اور یمن میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ حوثیوں کی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کی جوابی کارروائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور سعودی اور یمنی حکومتیں باب المندب پر حوثیوں کا کنٹرول قبول نہیں کریں گی۔
FULL REMARKS: Secretary Rubio Answers Questions at Joint Base Andrews Before Departing for Iceland, Greece, and Portugal https://t.co/uoiWyP5zq3
— Department of State (@StateDept) October 5, 2026
سعودی آپریشن پر امریکا کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے سعودی عرب کے ساتھ دفاع اور سکیورٹی کے معاہدے اور وعدے کر رکھے ہیں جن کی ہم پاسداری کریں گے۔“
یاد رہے کہ مارکو روبیو ٹرمپ کی کابینہ کا حصہ ہیں جنہوں نے 2014 میں سعودی عرب کو اپنی جنگیں خود لڑنے یا پھر اپنے دفاع کے بدلے امریکا کو کھربوں ڈالر دینے کا مشورہ دیا تھا۔
Saudi Arabia should fight their own wars, which they won’t, or pay us an absolute fortune to protect them and their great wealth-$ trillion!
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) August 31, 2014
