ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا کہ دشمن کی جارحیت روکنے کے لیے ضرورت کے مطابق پیشگی کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔
ایران کی اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی (ارنا) کے مطابق انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج دشمن کی کسی بھی جارحیت یا دراندازی کا جواب دینے اور پیشگی کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا کہ ایرانی فوج طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور فوجی ذخائر کو مضبوط بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری جاری ہے جبکہ جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے پرزہ جات بھی ملک میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ ایران میں بحری جہازوں اور فضائی دفاعی نظام کی تیاری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
Iranian Army spokesperson Brigadier General Mohammad Akrami-Nia: Should circumstances require it, we will conduct preemptive operations down the line in order to prevent the enemy from committing any act of aggression or intrusion. https://t.co/sEIzpZTuvI
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) October 7, 2026
اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ایران کو کون چلا رہا ہے؟َ
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کو اب آٹھ ماہ ہو چکے ہیں اور ایران کے رہنما مارے جا چکے ہیں، جبکہ ان کے لیڈروں کا دوسرا گروپ بھی جا چکا، اور اب میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ آخر ملک کو کون چلا رہا ہے؟
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکی اور اسرائیلی حملے کے پہلے ہی روز 28 فروری کو ختم کیا گیا تھا، ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا، تاہم وہ بھی حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے۔



