اکتوبر 2025 میں امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے۔
غزہ کے مشرقی البریج اور المغازی پناہ گزین کیمپوں پر اسرائیلی فوج کی تازہ گولہ باری کے نتیجے میں مزید 6 فلسطینی شہید ہو گئے۔
فلسطینی ذرائع اور غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز 11 اکتوبر 2025 سے اب تک تقریباً 1,400 سے 1,430 کے قریب فلسطینی اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے شہید اور ڈیڑھ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، حملوں میں اوسطاً روزانہ تقریباً چار افراد شہید ہو رہے ہیں۔
جنوری 2026 میں رات کے وقت ایک ہی حملے میں سو سے زائد افراد شہید ہوئے جسے جنگ بندی کے بعد سب سے ہلاکت خیز رات قرار دیا گیا تھا۔
شجاعیہ ، زیتون اور بیت لاہیہ میں گھروں کی مسماری
شجاعیہ، زیتون، بیت لاہیہ اور دیگر علاقوں میں گھروں اور دیگر تنصیبات کی مسماری، ڈرون حملوں اور توپ خانے کی شیلنگ مسلسل جاری رہتی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد سے اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ، 57 ہزار سے زائد ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے بعض بین الاقوامی امدادی تنظیموں، جیسے ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز اور نارویجن ریفیوجی کونسل پر غزہ میں کام کرنے کی پابندی بھی عائد کر رکھی ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس نے پیراشوٹ کے ذریعے اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر جنوبی اسرائیل میں مختلف آبادیوں، فوجی اڈوں اور ایک موسیقی میلے پر حملہ کر دیا تھا۔
حملے کے بعد اڑھائی سو اسرائیلی یرغمال
اسرائیلی اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد اسرائیل نے فلسطینیوں پر بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا ، اسرائیلی فوج نے اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیا۔
اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کی رپورٹس کے مطابق غزہ میں جانی نقصان کے ساتھ صحت کا نظام، رہائشی عمارتیں اور بنیادی ڈھانچہ بھی بڑے پیمانے پر تباہ ہوا ہے۔ تازہ جائزوں کے مطابق تقریباً 82 فیصد انفرااسٹرکچر متاثر ہوا ہے جبکہ تقریباً 21 لاکھ افراد بے گھر ہو کر عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔


