جرمن فیڈرل کورٹ آف جسٹس کی ہدایت پر ملک کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ آگسٹ ہیننگ کو جاسوسی اور غداری کے الزامات میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
خبررساں ادارے رائٹرزکے مطابق جرمن وفاقی انٹیلی جنس سروس (بی این ڈی) کے سابق سربراہ اور ان کے سابق چیف آف اسٹاف مینفرڈ ڈی کے خلاف باضابطہ وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
80 سالہ آگسٹ ہیننگ پرالزام ہے کہ انہوں نے اپنے سابق چیف آف اسٹاف مینفرڈ ڈی سے ہزاروں حساس اور خفیہ دستاویزات خریدیں اور ان معلومات کو ایک غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے تجزیہ تیار کرنے میں استعمال کیا۔
جرمن حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ملزمان کی جانب سے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔
ہزاروں حساس دستاویزات حاصل کرنے کا الزام
پراسیکیوٹرز کے مطابق آگسٹ ہیننگ نے جون 2022 تک رقم کے عوض مینفرڈ ڈی سے تقریباً 2 ہزار حساس دستاویزات حاصل کیں۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معلومات انتہائی حساس نوعیت کی تھیں اور صرف جرمن وفاقی انٹیلی جنس سروس کے اندرونی استعمال کے لیے تھیں۔
استغاثہ کے مطابق ان خفیہ دستاویزات کو مبینہ طور پر ایک غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے لیے تجزیے کی تیاری میں استعمال کیا گیا۔
تاہم پراسیکیوٹرز نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ آگسٹ ہیننگ پر کس غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام کرنے کا شبہ ہے۔
آذربائیجان کا نام بھی سامنے آگیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیش کے دوران آذربائیجان کا نام بھی سامنے آیا ہے تاہم آذربائیجانی حکام نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے، آگسٹ ہیننگ نے بھی اپنے خلاف عائد الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
جرمن حکام کی جانب سے معاملے میں غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے ممکنہ کردار کے حوالے سے تاحال حتمی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
اسی وجہ سے اس کیس میں خفیہ معلومات کے ممکنہ استعمال اور مبینہ طور پر غیر ملکی فریق کو فراہم کیے جانے کے معاملے پر تحقیقات کو انتہائی حساس قرار دیا جارہا ہے۔
سرد جنگ کے بعد بڑا سیکیورٹی اسکینڈل
میڈیا رپورٹ میں اس کیس کو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جرمنی کا سب سے بڑا سیکیورٹی اسکینڈل قرار دیا جارہا ہے۔
سابق اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار کے خلاف جاسوسی اور غداری کے الزامات نے جرمنی کے سیکیورٹی نظام اور خفیہ معلومات کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس اسکینڈل کے نتیجے میں عالمی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے جرمنی کے ساتھ حساس معلومات کے تبادلے اور فراہمی پر اعتماد متاثر ہونے کے خدشات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔
اتحادی اور شراکت دار ممالک عام طور پر خفیہ معلومات کے تبادلے میں اس بات کو اہمیت دیتے ہیں کہ فراہم کردہ معلومات مکمل طور پر محفوظ رہیں۔
آگسٹ ہیننگ کون ہیں؟
آگسٹ ہیننگ 1998 سے 2005 تک جرمن وفاقی انٹیلی جنس سروس بی این ڈی کے سربراہ رہے۔
اس دوران وہ جرمنی کے اہم ترین انٹیلی جنس حکام میں شمار ہوتے تھے اور ملکی و عالمی سیکیورٹی معاملات میں اہم ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔
اب ان ہی پر الزام ہے کہ انہوں نے بی این ڈی سے متعلق حساس معلومات غیر ملکی انٹیلی جنس کے مفاد میں استعمال کیں۔
پراسیکیوٹرز کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق معاملے میں دستاویزات کے حصول، ان کے استعمال اور مبینہ طور پر غیر ملکی ادارے تک معلومات پہنچانے کے پہلوؤں کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
سابق چیف آف اسٹاف مینفرڈ ڈی کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ انہوں نے حساس دستاویزات آگسٹ ہیننگ کو فراہم کیں۔
تاہم دونوں افراد کے خلاف عائد الزامات ابھی قانونی کارروائی کے مرحلے میں ہیں اور مقدمے کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
جرمن حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ مبینہ طور پر خفیہ معلومات کس غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے استعمال کی گئیں، تاہم کیس کو ملکی سلامتی سے متعلق انتہائی حساس معاملہ قرار دیا جارہا ہے۔


