فرانس میں تعلیمی نظام کی ناقص سہولیات، اساتذہ کی کمی اور بوسیدہ اسکول عمارتوں کے خلاف جاری طلبہ احتجاج نے شدت اختیار کرلی۔
ملک بھر میں ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور والدین سڑکوں پر نکل آئے جبکہ متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
رائٹرز کے مطابق پیرس، لیون، اسٹراسبرگ اور رین جیسے شہروں میں احتجاج کے دوران بعض مقامات پر مظاہرین نے پولیس پر اشیا پھینکیں اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں، جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور دیگر انسدادِ ہنگامہ آلات استعمال کیے۔ بعض مقامات پر آگ بھی لگائی گئی اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
فرانسیسی حکام کے مطابق متعدد اسکولوں کو نقصان پہنچا یا جس کی وجہ سے انہیں بند کرنا پڑا، وزارتِ انصاف نے 5 اکتوبر کو بتایا تھا کہ احتجاج سے متعلق تشدد میں 24 اسکول جلائے یا توڑ پھوڑ کا نشانہ بنائے گئے۔
6 ہزار سے زائد افراد گرفتار
فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق 6 اکتوبر تک احتجاج کے دوران 6,100 افراد کو گرفتار کیا جاچکا تھا، جن میں بڑی تعداد کم عمر افراد کی ہے۔ وزارتِ انصاف کے مطابق 5 اکتوبر تک 5,060 افراد حراست میں لیے گئے تھے، جن میں 87 فیصد یعنی 4,406 نابالغ تھے، جبکہ 1,802 افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی۔
وزارتِ انصاف کے مطابق قانونی کارروائی کا سامنا کرنے والوں میں 1,483 نابالغ اور 319 بالغ افراد شامل تھے۔ 14 افراد کو عدالتی حراست میں بھیجا گیا۔
احتجاج کی اصل وجہ کیا ہے؟
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق احتجاج کا آغاز ستمبر میں پیرس کے مضافاتی علاقوں کے ہائی اسکولوں سے ہوا۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ کئی اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی، بھیڑ بھاڑ والی کلاسیں، خستہ حال عمارتیں، ناکافی سہولیات اور طویل تعلیمی اوقات ان کی تعلیم کو متاثر کر رہے ہیں۔
طلبہ مزید اساتذہ کی بھرتی، کلاسوں میں طلبہ کی تعداد کم کرنے، اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت اور بہتر تعلیمی سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احتجاج بعد ازاں ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا۔
طلبہ تنظیموں کے مطابق 6 اکتوبر کو احتجاج اور اسکولوں کی ناکہ بندی سے تقریباً 1,800 ہائی اسکول متاثر ہوئے، جن میں بعض احتجاج کے باعث بند رہے جبکہ کچھ کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر بند کیا گیا۔
احتجاج میں طلبہ کے ساتھ اساتذہ اور والدین کی شرکت نے تحریک کو مزید وسعت دی ہے۔
پولیس کارروائی پر بھی سوالات
احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی بھی متنازع ہوگئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فرانسیسی حکام سے مظاہرین خصوصاً کم عمر طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال میں احتیاط اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حالیہ جھڑپوں میں ایک 15 سالہ طالب علم کا ہاتھ شدید زخمی ہوکر ضائع ہوگیا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جارہا ہے کہ پولیس کا استعمال کردہ گرینیڈ نوجوان نے خود اٹھایا تھا یا وہ اس کے قریب گرا تھا۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ فرانسیسی حکومت کے مطابق احتجاج کے دوران کم از کم 715 پولیس اہلکار اور 215 نوجوان زخمی ہوچکے ہیں۔
حکومت نے مطالبات پر غور کا عندیہ دے دیا
رائٹرز کے مطابق فرانسیسی وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے وزرا کو طلبہ کے مطالبات پر تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت کی جانب سے اساتذہ کی کمی، اسکولوں کی عمارتوں کی حالت اور تعلیمی نظام سے متعلق مسائل پر اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
یوں فرانس میں جاری احتجاج صرف اسکولوں کی بندش اور طلبہ کے مظاہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ تعلیمی بجٹ، سرکاری خدمات، پولیس کے طرزِعمل اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق وسیع تر بحث میں تبدیل ہوگیا ہے۔



