پیرس: فرانس میں تعلیمی معیار اور اسکولوں کی خراب صورتحال کے خلاف ہزاروں طلبا کا احتجاج پرتشدد ہوگیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 5 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق فرانس میں طلبا کے احتجاج کے باعث 700 سے زائد اسکول متاثر ہوئے، جبکہ مختلف سڑکوں پر آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے۔
واضح رہے کہ فرانس میں مظاہرین اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبا اور اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
More than 500 schools across France faced protests or disruptions as high school students demonstrated over teacher shortages and poor classroom conditions, prompting riot police to deploy tear gas and make thousands of arrests, NBC News reports. pic.twitter.com/hA7nKKuv4k
— Furkan Gözükara (@FurkanGozukara) October 3, 2026
فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ احتجاج کے دوران 5 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملک میں صورتحال فسادات اور شہری تشدد کی جانب بڑھ رہی ہے، جسے ختم کرنے کے لیے تمام دستیاب اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیر انصاف ژیرال دارمانین نے کہا کہ احتجاج اب ہائی اسکول کے طلبا کے مظاہروں سے بڑھ کر امن و امان کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ملک کے 3 ہزار 700 اسکولوں میں سے 735 کسی نہ کسی طرح ان پرتشدد مظاہروں سے متاثر ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ فرانس میں ہونے والا احتجاج گزشتہ ہفتے پیرس سے شروع ہوا تھا جو اب مونپیلیے، نانٹ اور مارسیلے سمیت فرانس کے دیگر شہروں تک پھیل گیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسکول کے اوقات بہت طویل ہیں، کلاس رومز میں شدید گرمی ہوتی ہے جبکہ عملے کے متعدد ارکان بھی غیر حاضر رہتے ہیں۔
فرانس کے وزیر تعلیم ایڈوار ژیفغے نے الزام عائد کیا ہے کہ طلبا کی احتجاجی تحریک کو غیر طلبہ افراد اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے ملک میں جاری طلبا احتجاج کے دوران اسکولوں میں ہونے والے تشدد اور توڑ پھوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے سے تعلیمی ادارے ناقابل بیان تشدد کی زد میں ہیں۔
Depuis une semaine, des violences inqualifiables frappent notre École. Des lycées sont attaqués, des bâtiments sont saccagés, parfois incendiés, des personnels sont pris pour cible.
Les revendications initiales demandaient un meilleur service public de l’éducation. Ceux qui… pic.twitter.com/fmRCXAP6V7
— Édouard Geffray (@EdouardGeffray) October 3, 2026
والدین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ہونے والی جھڑپوں، تشدد اور بدامنی کے باعث ان کے بچے متاثر ہوسکتے ہیں۔


