اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ایمرجنسی لگانا پسندیدہ عمل نہیں، تاہم اگر خیبرپختونخوا حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گی اور وفاقی حکومت پر چڑھ دوڑے گی تو آئین میں راستہ موجود ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی اب بھی ترجیح ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت آئین کے مطابق کام کرے۔ لیکن اگر صوبائی حکومت غیر آئینی اقدامات سے باز رہنے کی یقین دہانی کرائے تو ایمرجنسی کی طرف نہیں جائیں گے۔ بصورت دیگر وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ آئینی خلاف ورزیوں کو روکا جائے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے امن و امان پر توجہ نہیں دے رہی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کی توجہ صرف لانگ مارچ پر ہے اور گزشتہ آٹھ ماہ سے وہ اسی کی تیاری کر رہی ہے۔ خیبرپختونخوا میں شہری اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت دوسرے صوبے میں جاکر لانگ مارچ کی تیاری کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو عدالتوں سے رہائی ملے گی، اسلام آباد پر چڑھائی سے نہیں۔ اس طرح کا عمل آئین اور قانون کے مطابق نہیں، اگر صوبائی حکومت اسی مؤقف پر بضد رہی تو وفاق اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایمرجنسی سے متعلق فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی، جبکہ اس سے قبل صدر مملکت اور کابینہ سے مشاورت ہو گی۔ صوبے میں ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے یا اختیارات گورنر کو دینے سمیت آئینی راستے موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سے آف دی ریکارڈ بات چیت جاری ہے، اور وزیراعظم نے دو مرتبہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کو خط لکھ کر بات چیت کی دعوت دی ہے۔ جبکہ اپوزیشن لیڈر وزیراعظم سے ملنا چاہیں تو کل بھی ملاقات کرسکتے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ سیاسی مذاکرات بھی ایک آپشن ہے، تاہم دہشتگردی اور امن و امان کے معاملے پر صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔



