وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت سے بیک ڈور رابطے اب بھی جاری ہیں ،لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک ان سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم 3 بار پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ کر چکے ہیں، پی ٹی آئی کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا، لانگ مارچ مؤخر کرنے کی بات کریں تو وزیراعظم سے رابطہ ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر کا یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہمارا لانگ مارچ پرامن ہو گا تاہم حکومتی رہنما خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ لانگ مارچ پرتشدد ہو سکتا ہے جبکہ وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج پی ٹی آئی کی روایت نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پُرتشدد ہو گا، قانون کےدائرے میں احتجاج آئینی حق ہے، ریاست یا اسلام آباد پر حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پی ٹی آئی اسلام آباد کے علاوہ کسی بھی جگہ پر احتجاج کر کر سکتی ہے۔
”پی ٹی آئی والوں کو 26 نومبر دہرانے نہیں دیا جائے گا“
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے ،حالات سے پہلے احتیاط ضروری ہے، پی ٹی آئی والوں کو 26 نومبر دہرانے نہیں دیا جائے گا۔
انہوں نے کہ کہ اسلام آباد میں کنٹینرز سڑک کنارے پڑے ہیں مگرسڑکیں کھلی ہیں، کنٹینرز کو حفاظتی اقدامات کے طور پر رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں دنیا بھرکے ڈپلومیٹس موجود ہیں، اسلام آباد میں صورت حال سے دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟۔
”حکومت کسی دباؤ میں نہیں“
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے حکومت کسی دباؤ میں نہیں، ونس فار آل کا مقصد کسی جماعت کو ختم کرنا نہیں، نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے تین روز قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کرنفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی تیاری کر رہی ہے، اس بار مستقل حل نکالیں گے، یہ لوگ اپنا اور لوگوں کا نقصان کرائیں گے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو گا کہ وہ لوگ آ کر بیٹھ جائیں اور ملک دس، بیس دن کے لیے بند ہو جائے، اس مرتبہ ونس فار آل ہو گا۔



