امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ایران کو کون چلا رہا ہے؟َ
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کو اب آٹھ ماہ ہو چکے ہیں، ایران کے رہنما مارے جا چکے ہیں ، ان کے لیڈروں کا دوسرا گروپ بھی جا چکا، میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ آخر ملک کو کون چلا رہا ہے؟
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکی اور اسرائیلی حملے کے پہلے ہی روز 28 فروری کو ختم کیا گیا تھا، ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا، تاہم وہ بھی حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے۔
‘تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر کر رہے ہیں’
قبل ازیں میری لینڈ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم تیل کی ترسیل اس سطح پر کر رہے ہیں جو جنگ سے پہلے کی سطح کے برابر ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی وزیر کہہ رہا ہے کہ ہماری کوئی معیشت نہیں ہے اور ہمارے پاس تیل بھی نہیں۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران سے معاہدے کیلئے تیار ہیں لیکن ایران کو جوہری پروگرام پر لچک دکھانا ہو گی اور اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہو گی۔
ایران کو 60 فیصد افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں؟
جے ڈی وینس نے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ محض مستقبل میں جوہری سرگرمیوں میں کمی کی یقین دہانی کافی نہیں ہوگی، اگر ایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا تو پھر 60 فیصد افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگر ایران یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا تو انتہائی افزودہ ایندھن تیار نہ کرے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کو پیچیدہ بنانے والی ایک اہم بات یہ ہے کہ واشنگٹن کو یہ واضح نہیں کہ ایران میں فیصلے کون کرتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی نائب صدر کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے ایرانی ہم منصب کون ہیں اور ایران میں فیصلہ سازی کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔



