امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر 2009 میں فائرنگ کرکے 13 افراد کو قتل کرنے والے سابق امریکی فوجی نفسیاتی ماہر نڈال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی منظوری دے دی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بتایا کہ سابق امریکی فوج کے میجر نڈال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی منظوری صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی سفارش پر دی۔
Secretary of War Pete Hegseth has recommended — and President Donald J. Trump has approved — death by U.S. Army firing squad for convicted terrorist Nidal Malik Hasan, the jihadist who opened fire on unarmed American soldiers at Fort Hood in 2009. He killed 13 people and wounded 32 others while shouting “Allahu Akbar” during the attack.
The Secretary of the Army will set the time and place of the execution. Judgement day for Hasan has finally come.
— Sean Parnell (@SeanParnellASW) October 5, 2026
حکام کے مطابق حسن نے حملے کے دوران “اللہ اکبر” کا نعرہ لگایا تھا۔ فائرنگ کے واقعے میں 12 غیر مسلح حاضر سروس فوجی اہلکار اور ایک ریٹائرڈ فوجی ہلاک جبکہ 32 افراد زخمی ہوئے تھے۔
پینٹاگون کے ترجمان نے کہا کہ سزائے موت پر عمل درآمد کے وقت اور مقام کا تعین سیکرٹری آرمی کریں گے۔
فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت ان متعدد طریقوں میں شامل ہے جنہیں ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ مہینوں میں سنگین وفاقی جرائم کے مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے قابلِ استعمال قرار دیا ہے۔ دیگر طریقوں میں بجلی کی کرسی اور زہریلی گیس کے ذریعے موت شامل ہیں۔
وفاقی سطح پر سزائے موت کے طریقوں میں اضافے کی ایک وجہ مہلک انجیکشن کے لیے درکار ادویات کے حصول میں بڑھتی مشکلات بھی بتائی گئی ہیں۔ مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت پر عمل درآمد بعض دیگر وجوہات کی بنا پر بھی مشکلات کا شکار رہا ہے۔
نڈال حسن نے 2009 میں وسطی ٹیکساس کے وسیع فوجی اڈے فورٹ ہڈ کے ایک طبی مرکز میں لیزر سے نشانہ بنانے والی پستول سے فائرنگ کی تھی۔ فوجی عدالت نے اگست 2013 میں اسے پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت قتل اور قتل کی کوشش کے 45 الزامات میں مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب حسن کو افغانستان میں تعیناتی کے لیے بھیجے جانے میں چند ہفتے باقی تھے۔ گرفتاری کے وقت پولیس کی فائرنگ سے حسن جزوی طور پر مفلوج ہوگیا تھا اور بعد ازاں وہ وہیل چیئر تک محدود رہا۔
رائٹرز کے مطابق حسن نے بعد میں اس حملے کو مسلم دنیا میں امریکی جنگوں کا بدلہ قرار دیا تھا۔
سزائے موت کی مخالفت کرنے والی تنظیم ‘ڈیتھ پینلٹی ایکشن’ نے ٹرمپ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو قتل کرنے کا اختیار حاصل ہونے سے بڑھ کر کوئی چیز پسند نہیں۔
امریکی فوج میں سزائے موت پر عمل درآمد انتہائی نایاب ہے۔ یونیفارم کوڈ آف ملٹری جسٹس کے تحت فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت صدر کی منظوری کے بغیر نافذ نہیں کی جا سکتی۔
تنظیم کے مطابق اگر حسن کو سزائے موت دے دی گئی تو یہ 1961 کے بعد امریکا میں پہلی فوجی پھانسی ہوگی۔ ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق 1961 میں فوجی سزائے موت پھانسی کے ذریعے دی گئی تھی، جبکہ امریکی فوج میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے آخری معلوم سزائے موت نومبر 1945 میں “مسکیٹری” کے ذریعے دی گئی تھی۔
ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق کم از کم پانچ امریکی ریاستوں میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی اجازت موجود ہے۔ 2025 میں جنوبی کیرولائنا میں 15 سال کے وقفے کے بعد امریکا میں پہلی مرتبہ فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔



