حوثی باغیوں نے مبینہ طور پر بحیرۂ احمر کے ساحل پر یمنی حکومت کے زیرِ قبضہ آخری علاقوں پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے، جس کے بعد یمن کی پوری بحیرۂ احمر ساحلی پٹی حوثیوں کے قبضے میں آنے کی اطلاعات ہیں۔
رائٹرز کے مطابق یمنی حکومت کے 4 ذرائع نے بتایا کہ حوثی یمن کے ساحل پر واقع ضلع ذباب کے بعد آبنائے باب المندب میں جزیرہ پیرِم پر پہنچ چکے ہیں۔
یاد رہے کہ ذباب اور پیرِم جزیرے پر کنٹرول آبنائے باب المندب پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اس سے قبل الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ حوثیوں نے 18 گھنٹے کی کارروائی کے دوران حکومت کے زیرِ کنٹرول آخری ساحلی علاقوں پر قبضہ کیا۔ سرکاری فورسز کے المخا شہر سے انخلا کے بعد حوثی جنگجوؤں کو جنوب کی جانب پیش قدمی میں زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور انہوں نے پہلے ضلع ذباب اور پھر علاقہ مراد پر قبضہ کرلیا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انصار اللہ (حوثی باغی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے آبنائے باب المندب پر نظر رکھنے والے اہم فوجی مرکز العمری گارژن کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں واقع اہم جزیرہ زقر پر بھی مکمل کنٹرول قائم کرنے اور جزیرے کو مخالف فورسز سے خالی کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
توانائی کی سپلائی متاثر اور تیل کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ
حوثیوں نے اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔ پیرِم پر بھی قبضے کی صورت میں خدشہ ہے کہ عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اور اہم راستہ شدید متاثر ہوسکتا ہے۔
پیرِم جزیرہ آبنائے باب المندب کے درمیان واقع ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور وہاں سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد اس بحری راستے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
پیرم پر کنٹرول کا مطلب آبنائے باب المندب پر کنٹرول ہے جو دنیا کے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس پر حوثیوں کا کنٹرول انہیں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنے اور عالمی تجارت پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں لا سکتی ہے۔
Houthis seized control of Yemen’s Mocha and advanced down the Red Sea coast to strategic islands, raising concern regarding their leverage over the Bab el-Mandeb Strait — another vital artery for oil shipments. Tony Munroe has the details https://t.co/nrRVJ6zCt8 pic.twitter.com/vdQItGAjmw
— Reuters (@Reuters) September 11, 2026
واضح رہے کہ باب المندب کو آبنائے ہرمز کے برابر اہمیت حاصل ہے۔ اگر اس راستے سے بھی بحری تجارت متاثر ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یمن کی خانہ جنگی یہاں تک کیسے پہنچی؟
یمن میں خانہ جنگی 2014 میں شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرکے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو ملک سے باہر جانے پر مجبور کردیا۔
اگلے برس سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد نے حوثیوں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ ایران نے حوثیوں کو ہتھیار اور تربیت فراہم کی اور گروپ کے فیصلوں پر بھی اس کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں یمن عملاً مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ حوثیوں کے پاس دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمال مغربی وسیع علاقے ہیں، جبکہ حکومت اور اس کے اتحادی جنوبی اور مشرقی علاقوں کے بڑے حصے میں موجود رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق آج بھی یمن میں تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
غزہ جنگ کے بعد حوثی بھی تنازع میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیل پر حملے کیے اور بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ امریکا اور اسرائیل نے حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کیے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے 2025 میں حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔
حوثیوں کی تازہ کارروائی جولائی میں شروع ہوئی جس نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تقریباً 4 سال سے جاری غیر اعلانیہ جنگ بندی کو متاثر کیا اور یمن کے تنازع کو ایران کے ساتھ وسیع تر جنگ سے جوڑ دیا۔
یوں جزیرہ پیرم اور باب المندب پر حوثیوں کی ممکنہ گرفت اب صرف یمن کی خانہ جنگی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔



