سعودی فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ سعودی ایئر ڈیفنس فورسز نے مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے حوثی ڈرون کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔
سعودی اتحادی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈرون ‘دہشتگرد حوثی ملیشیا’ کی جانب سے لانچ کیا گیا تھا جس کو مکہ کی ممنوع فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی جنوب رخ پر روک کر تباہ کر دیا گیا۔
ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مکہ المکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش کی تھی۔ ان کے بقول پہلی کوشش 27 جولائی 2017 کو مکہ پر بیلسٹک میزائل داغ کر کی گئی تھی۔
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) September 16, 2026
ترکی المالکی نے مزید کہا کہ حملے کو صرف ایک شرمناک فعل ہی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ وحی کے نزول کی سرزمین اور دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں کو اپنی جانب کھینچنے والے مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی ایک کوشش تھی۔
انہوں نے کہا کہ “حرمین شریفین اور زائرین کا تحفظ ریڈ لائن ہے، اور سعودی اتحاد کی فوج دہشت گرد حوثی ملیشیا اور اس کے جارحانہ و دہشت گردانہ رویے کے خلاف ضروری جوابی کارروئی کرنے میں ہرگز نہیں ہچکچائے گی۔”
مکہ پر ڈرون حملے کا الزام بے بنیاد ہے، حوثی حکام
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے سعودی دعوے کو مسترد کردیا۔ حوثی سیاسی بیورو کے رکن حازم الاسد نے کہا کہ مکہ کو نشانہ بنانے سے متعلق سعودی اتحاد کا دعویٰ ’’پرانا جھوٹ‘‘ ہے جس سے اب کسی کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔
حوثی سیاسی بیورو کے ایک اور رکن محمد الفراح نے بھی سعودی عرب کے الزام کو ‘سراسر جھوٹ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گروپ نے مکہ مکرمہ کو نشانہ نہیں بنایا۔
BREAKING | Saudi-led Arab Coalition: Saudi air defenses intercepted and destroyed a Houthi drone before it entered the restricted airspace over the holy city of Mecca.
The coalition said the incident marks a second attempt to target Mecca, following a ballistic missile launch toward the city on July 27, 2017, stressing that the security of the Two Holy Mosques and pilgrims is a “red line.”
It added that the Joint Forces Command will take the necessary deterrent measures against what it described as Houthi “aggressive and terrorist” conduct.
— The Middle East (@A_M_R_M1) September 16, 2026
اگرچہ حوثیوں نے مکہ پر ڈرون حملے کے الزام کو مسترد کر دیا ہے مگر حالیہ دنوں میں گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر متعدد حملے کیے گئے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کے کئی شہروں کو نشانہ بنایا جبکہ پیر کو ایک فضائی اڈے پر بھی حملہ کیا۔ سعودی اتحاد کے مطابق اس حملے میں 13 شہری زخمی ہوئے۔
ادھر پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کشیدگی فوری کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے یمن کے حوالے سے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ یمن کے اندر حوثیوں کی فوجی کشیدگی میں اضافہ اور سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کا مسلسل جاری رہنا تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے گفتگو کے دوران ان حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ یہ حملے علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، جن کے عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
Permanent Representative of Pakistan to the UN,
At the UN Security Council Emergency Meeting on Yemen
(15 September 2026)
********Thank you, Madam President. I would like to thank Assistant Secretary General Khalid Khiari for his briefing. We also welcome the participation of the distinguished representatives of Yemen and Saudi Arabia to this meeting.
President,
2. The very fact that the Council is meeting again in less than one week speaks to the urgency and gravity of the rapidly deteriorating situation in Yemen. The Houthi military escalation inside Yemen, the continued Houthi attacks against the Kingdom of Saudi Arabia and the latest military developments along Yemen’s Red Sea coast have brought the conflict to an extremely dangerous juncture.
3. Pakistan condemns, in the strongest terms, all Houthi attacks against the Kingdom of Saudi Arabia. Yesterday, Prime Minister Mohammed Shahbaz Sharif, in his conversation with His Royal Highness Crown Prince Mohammed bin Salman, reiterated Pakistan’s strong condemnation of these attacks and underscored that they threaten regional peace and stability with serious consequences for the global economy and energy security. Pakistan will continue its earnest efforts at the highest levels to help diffuse tensions and advance peace and stability in the region.
4. Pakistan reaffirms its unwavering support for the sovereignty, territorial integrity, security, and prosperity of Saudi Arabia and stands in complete solidarity with its leadership, government, and brotherly people of the kingdom. And consistent with the UN Charter and international law, Pakistan fully supports the kingdom’s legitimate right to take all necessary measures to defend its territory, protect its citizens, and safeguard its national assets against any threat.
President,
5. The expansion of Houthi attacks in and around Bab al-Mandab, this vital maritime corridor, represents a serious escalation. Combined with continued violations of international law against commercial shipping, these developments pose a growing threat to freedom of navigation and the uninterrupted flow of international maritime commerce. Any attempt to threaten, obstruct, or weaponize the vital waterways will have consequences for international trade and commercial shipping, global supply chains, and energy security.
6. The relative calm painstakingly maintained in Yemen since 2022 has unfortunately collapsed. Continued escalation risks reigniting a full-scale conflict and drawing Yemen deeper into the wider regional confrontation. This must be prevented.
7. The current developments further exacerbate the already dire humanitarian situation in Yemen, compounding the suffering of the Yemeni people. Diplomacy must assume urgency in proportion to the gravity of this situation. We strongly support the resumption of an inclusive, Yemeni-led and Yemeni-owned political process under United Nations auspices, and in this regard, appreciate the Special Envoy for his continued engagement.
President,
8. Pakistan will continue to support all sincere efforts towards de-escalation, dialogue, and a comprehensive political settlement that can bring lasting peace and stability to Yemen and the wider region.
I thank you.
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) September 16, 2026
عاصم افتخار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور مملکت کی قیادت، حکومت اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
علاوہ ازیں او آئی سی نے سعودی عرب کیساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو روکنے اور مقدس مقامات کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔
علاوہ ازیں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب کے شہروں پر حوثیوں کے حملے کی شید مذمت کی ہے۔
تنظیم کے جنرل سیکرٹریٹ نے بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا، مقدس مقامات اور مساجد کی حرمت پامال کرنا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا تھا۔
The OIC General Secretariat Condemns the Houthi Attacks on Makkah and the Madinah Region
#OIC #Makkah #Madinah #SaudiArabia #Houthi https://t.co/nQaz3CF2ol
— OIC (@OIC_OCI) September 15, 2026
او آئی سی نے زور دیا کہ حوثی گروپ کی جانب سے مقدس مقامات، عبادت گاہوں اور شہری تنصیبات کو متاثر کرنے والی کارروائیاں دہشتگردی کے زمرے میں آتی ہیں، جو اسلامی اقدار، بین الاقوامی اصولوں اور عالمی قوانین سے متصادم ہیں۔ مقدس مقامات کی حرمت پامال کرنا کسی بھی صورت قبول یا برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
اسلامی تعاون تنظیم نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مقدس مقامات، شہریوں، ملکی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے سعودی اقدامات کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے سعودی دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ حوثی سیاسی بیورو کے رکن حازم الاسد نے کہا کہ مکہ کو نشانہ بنانے سے متعلق سعودی اتحاد کا دعویٰ ’’پرانا جھوٹ‘‘ ہے جو اب کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔
حوثی سیاسی بیورو کے ایک اور رکن محمد الفراح نے بھی سعودی عرب کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ گروپ نے مکہ مکرمہ کو نشانہ نہیں بنایا۔
قبل ازیں منگل کو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے متعدد حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے تھے۔ خمیس مشیط، ابہا اور طائف پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون سے حملے کئے جن میں 7 مکانات اور 2 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حملوں کا سلسلہ دہشتگرد حوثی ملیشیا کے طرزِ عمل اور انتہا پسندانہ نظریے کو ثابت کرتا ہے، اتحادی افواج کی مشترکہ کمانڈ سعودی عرب کی خودمختاری، شہری تنصیبات اور شہریوں کو ان سنگین حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ذمہ دارانہ اور سخت کارروائی کرے گی۔
سعودی کابینہ نے بھی حوثیوں کی جانب سے سعودی شہری تنصیبات اور شہریوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سعودی میڈیا کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے کابینہ کو وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر سے اپنی ملاقات کی تفصیلات سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا۔
سعودی کابینہ نے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت حق دفاع کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں موجودہ علاقائی صورتحال اور مختلف فریقوں سے بات چیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
حوثیوں کے حالیہ حملوں سے عالمی توانائی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔ تقریباً سات ماہ سے جاری امریکا ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہے، جبکہ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحل کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی باب المندب کے قریب ہوئی ہے، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔



