نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہے،حرمت و سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ ایک انتخاب ہے تو امن بھی ایک انتخاب ہے، پاکستان نے اپنا انتخاب کرلیا اور تنازع پر مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیات کی تلاوت سے کیا اور سورۃ الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ۔‘‘
شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے چوتھی بار خطاب کرنا ان کے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی متحرک قیادت کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمان کو بھی انتخاب پر مبارکباد دی۔
وزیراعظم نے قائداعظم محمد علی جناح کے اقوام متحدہ سے متعلق معروف قول کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں پر یقین رکھتا ہے۔
’پاکستان خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کررہا ہے‘
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کررہا ہے اور آئندہ بھی اپنا کردار جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایران اور امریکا کو اسلام آباد مدعو کیا اور دونوں ممالک کو ایک چھت تلے لانے میں کامیاب رہا۔
وزیراعظم کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں امن مذاکرات ہوئے۔ انہوں نے اس سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں کو بھی سراہا۔
پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان کے اس سفارتی کردار کو اقوام متحدہ کے ترجمان نے بھی سراہا اور پاکستانی قیادت کی کوششوں کو خطے میں تشدد کے خاتمے کی کوششوں میں اہم قرار دیا ہے۔
’آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلے رہنے چاہئیں‘
شہباز شریف نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم کاوشوں میں سے ایک ہے، جبکہ میزائل، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کے مراکز آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلے رہنے چاہئیں، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستے ہیں۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حرمین شریفین پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں‘
شہباز شریف نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ علاقائی امن و استحکام کا ضامن ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تینوں ملکوں کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ دفاع، استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست 2026 میں مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بنیادی اصولوں میں اجتماعی دفاع شامل ہے۔ پاکستانی حکومت اس معاہدے کو جارحانہ اتحاد کے بجائے دفاعی اور علاقائی استحکام کے انتظام کے طور پر بیان کرتی رہی ہے۔
’بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، وزیراعظم‘
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کو بھارت کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا جواب دیا اور دشمن کو سبق سکھایا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ بھارتی حملوں کا بھرپور جواب دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی امن کی کوشش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان تنازع کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
’مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے‘
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کے لیے کشمیری بھائیوں کی جدوجہد جاری ہے اور پاکستان آخری حد تک کشمیری عوام کی حمایت کرے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، تھا اور ہمیشہ رہے گا۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں سے متعلق اپنے وعدے پورے کرے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
’وزیراعظم کی سندھ طاس معاہدے پر بھارت کو وارننگ‘
وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ غیرقانونی ہے اور بھارت کو پانی کو ہتھیار بنانے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ فیصلے کو اقوام متحدہ اور ثالثی عدالت نے مسترد کیا ہے۔
’ القدس شریف کو فلسطین کا دارالحکومت بنانے کا مطالبہ‘
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے فلسطین کو آزاد ریاست بنانے اور القدس شریف کو فلسطین کا دارالحکومت بنانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس دنیا میں مذہب کے حوالے سے نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور اسلاموفوبیا میں دن بدن اضافہ تشویش کا باعث ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینی عوام نسلوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ غزہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دنیا کے دیگر بچوں کی طرح جینے کا بھرپور حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی تشدد کا مغربی کنارے تک پھیلنا انتہائی تشویشناک ہے اور فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیراعظم نے لبنان اور شام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی دہشتگردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بھی رواں جنرل اسمبلی اجلاس میں غزہ، مغربی کنارے میں تشدد، نقل مکانی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔
’افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے‘
وزیراعظم شہباز شریف نے افغان حکومت سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ افراد نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانیں گنوائیں جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان بھی ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی قربانیوں کے باعث دنیا آج زیادہ محفوظ ہے۔
’جنگ بھی انتخاب، امن بھی انتخاب ہے‘
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ ایک انتخاب ہے اور اسی طرح امن بھی ایک انتخاب ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ پر امن کو ترجیح دی اور اپنا انتخاب کرلیا ہے۔ پاکستان نے تنازع پر مذاکرات کو چنا ہے۔
شہباز شریف نے سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ممالک کی امن کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ افسوسناک طور پر امن دشمن کارروائیوں سے ایک بار پھر خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میزائل، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے۔
’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ‘
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے دو جوہری ممالک کے درمیان اس وقت جنگ بندی کرائی جب دونوں ممالک آمنے سامنے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر کی کوششوں سے لاکھوں جانیں بچیں۔
شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ ایسی صورتحال تک نہیں پہنچنے دینا چاہیے جہاں خطے کو بڑے تصادم کا خطرہ لاحق ہو۔
’پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں‘
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو بھاری جانی و معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کے باعث دنیا آج زیادہ محفوظ ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے اور خطے میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہندوتوا نظریہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر نفرت کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور اسلاموفوبیا کا دن بدن بڑھنا تشویش کا باعث ہے۔
وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مذہبی نفرت اور تعصب کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
’جنوبی ایشیا کو دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جانے دیں گے‘
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کو بھارت کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ یقینی بنانا ہوگا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ ایسی حالت کو نہ پہنچے جہاں جنگ اور تصادم کا خطرہ پیدا ہو۔
’وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار کی کاوشوں کو سراہا‘
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے فورم پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے میں قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی۔
وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا مقصد خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا حصول ہے۔
’امن اور سفارت کاری کا پیغام‘
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کے راستے کو آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیراعظم کا یہ مؤقف اقوام متحدہ کے حالیہ سفارتی رابطوں میں بھی نمایاں رہا ہے؛ 25 ستمبر کو سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں بھی انہوں نے علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا تھا۔



