سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی فورسز نے اہم بحری گزرگاہ باب المندب آبنائے پر مؤثر کنٹرول حاصل کرلیا ہے تاہم علاقے میں حوثی فورسز کے ساتھ لڑائی بدستور جاری ہے۔
یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے خبر رساں ادارے رائٹرزکو بتایا کہ یمنی حکومتی فورسز نے آبنائے کے قریب اہم پوزیشنز سنبھال لی ہیں۔
معمر الاریانی کے مطابق حکومتی فورسز نے سعودی فضائی مدد کے ساتھ ساحلی علاقے میں تیزی سے پیش قدمی کی اورباب المندب کے تنگ ترین مقام کے قریب واقع ذباب کے علاقے میں اہم پوزیشنزپرقبضہ کرلیا، یہ علاقہ عالمی توانائی تجارت کیلئے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ فوج نے آبنائے کے قریب واقع ذباب ایئر اسٹرپ بھی اپنے قبضے میں لے لی ہے، جو آبنائے سے کچھ اندرواقع ہے، علاقے میں موجود باقی حوثی فورسز کو بھی کاٹ دیا گیا ہے۔
تاہم یمنی حکومت کے ایک اور ذریعے نے بتایا کہ آبنائے کے قریب ایک فوجی اڈے پر حکومتی فورسزاورحوثیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے حکومتی فورسزکی پیش قدمی کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “مکمل طور پر بے بنیاد” قرار دیا ہے۔
حوثیوں کی کارروائیوں سے اہم تیل راستہ خطرے میں
باب المندب پر جاری لڑائی نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش پیدا کردی ہے، ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے گزشتہ ماہ آبنائے پر قبضے نے عالمی توانائی منڈیوں میں ہلچل پیدا کردی تھی۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملانے والی اہم گزرگاہ ہے، جس کے ذریعے بحیرہ روم اور بحر ہند کے درمیان بحری تجارت ہوتی ہے۔
یمنی ساحلی علاقے پر حکومتی فورسز کا کنٹرول حوثیوں کیلئے بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔
تاہم وہ ساحل سے مزید اوپر اور اندرون ملک موجود پوزیشنز سے ڈرونز کے ذریعے جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت برقرار رکھ سکتے ہیں۔
سعودی عرب نے یمنی حکومت کی فورسز کو مسلح اور تربیت فراہم کرنے کے ساتھ فوجی کارروائی کیلئے فضائی مدد بھی فراہم کی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق پیر کو یمن میں سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ باب المندب آبنائے اور یمنی زمینی فورسز کو فضائی تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
یمن میں کئی محاذوں پر لڑائی شدت اختیار کرگئی
یمن میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے، یہ کشیدگی اس وقت دوبارہ بڑھی جب طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی امریکا اور ایران کے تنازع کے اثرات کے بعد دوبارہ شدت اختیار کرگئی۔
یمنی حکومت نے اتوار کو حوثیوں کے خلاف مختلف علاقوں میں فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
عبوری صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے عزم ظاہر کیا تھا کہ ملک کو حوثی گروپ کے قبضے سے آزاد کرانے تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔
یمنی حکومت کے مطابق دارالحکومت صنعاء سمیت کئی محاذوں پر حملے کیے گئے، دوسری جانب حوثیوں کے زیرانتظام وزارت صحت کے مطابق صنعاء صوبے کے صنعان اور صعوان اضلاع میں ہونے والے حملوں میں 2 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوئے۔
تعز میں حوثیوں کی پیش قدمی، شہر کا محاصرہ مزید سخت
یمن کے جنوب مغربی علاقے میں بھی لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے، جہاں حوثی فورسز تعز شہر کے گرد حکومتی فورسز کا محاصرہ مضبوط کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
یمنی حکومت کے 5 فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے تعز کے قریب ایک اہم پہاڑی سڑک کے بعض حصوں پر پیش قدمی کی ہے، جس کے نتیجے میں شہر میں موجود حکومتی فورسز کا رابطہ متاثر ہوا ہے تاہم ایک اور حکومتی ذریعے نے سڑک کا رابطہ منقطع ہونے کی تردید کی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے حوثیوں کے حملے میں تعز۔عدن شاہراہ پر واقع ایک پل نما گزرگاہ کو نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد یہ راستہ ناقابل استعمال ہوگیا۔
اتوار کی رات حوثی جنگجوؤں نے تعز صوبے کے قصبے التربہ میں بھی مزید پیش قدمی کی، جو ایک بلند مقام پر واقع ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کی جانب سے اس دعوے کی بھی مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حوثیوں کے زیرانتظام خبر رساں ادارے نے پیر کو ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حوثی فورسز نے تعز صوبے کے المواسط ضلع سے حکومتی فورسز کو نکال دیا ہے اور وہ یمن کی عبوری صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے گھر تک پہنچ گئے ہیں۔
حکومتی فوجی ذرائع کے مطابق تازہ پیش قدمی کے بعد یمن کا تیسرا بڑا شہر تعز حوثی فورسز سے گھرا ہوا ہے۔ شہر کی آبادی 5 لاکھ سے زائد ہے جبکہ وہاں ہزاروں حکومتی جنگجو موجود ہیں۔
تعز میں ایندھن اور گیس کی قلت، شہری مشکلات کا شکار
تعز کے المحضفر علاقے میں پیر کو ایک پٹرول اسٹیشن کے باہر شہریوں کی طویل قطار دیکھی گئی، جہاں لوگ ایندھن اور کھانا پکانے کیلئے گیس سلنڈر حاصل کرنے کے منتظر تھے۔
ایک شہری شہاب حازہ نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ تعز میں شہریوں کی مشکلات روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں اور جنگ کے باعث عوام مسلسل پریشانی کا شکار ہیں۔
یمن میں موجودہ تنازع کا آغاز 2014 میں ہوا تھا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا، اس کے بعد 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمنی حکومت کی بحالی اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے فضائی کارروائی شروع کی۔
جنگ کئی برس تک خونریز تعطل کا شکار رہی اور بیشتر محاذوں پر لڑائی کسی بڑے فیصلہ کن نتیجے کے بغیر جاری رہی۔ اس دوران یمن میں شدید انسانی بحران پیدا ہوا۔
2022 میں جنگ بندی کے بعد کئی محاذوں پر نسبتاً سکون رہا، تاہم اس سال موسم گرما کے بعد دوبارہ لڑائی میں شدت آگئی۔
اقوام متحدہ کی مہاجرت سے متعلق ایجنسی کے مطابق جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد اب تک تقریباً 1 لاکھ 84 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔



