مکہ معاہدے کے تحت اسٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا اہم اجلاس آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہوگا جس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار،وزیر دفاع خواجہ آصف اورآرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر شرکت کریں گے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں خطے کی بدلتی صورتحال اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت جاری تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ اجلاس یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کے ایک روز بعد ہورہا ہے۔
گزشتہ روز یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مسلح افواج کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے اور منظور شدہ منصوبوں کے مطابق کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈارسعودی عرب پہنچ گئے ہیں جبکہ خواجہ آصف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر آج روانہ ہونگے۔
🔊 PR No. 2️⃣7️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Curtain Raiser: Meeting of the Strategic Political and Defence Committee (SPDC) under the Makkah Agreement
🔗⬇️ https://t.co/NNFmZmSQoS
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 5, 2026
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیفس آف جنرل اسٹاف بھی شرکت کریں گے۔
ترجمان نے کہا کہ اجلاس میں پاکستان کی شرکت علاقائی امن و استحکام میں مسلسل کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اجلاس سے قبل مدینہ منورہ پہنچے جہاں سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر، جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل، سعودی وزارت خارجہ کی مدینہ شاخ کے ڈائریکٹر جنرل اور سعودی شاہی پروٹوکول کے حکام نے ان کا استقبال کیا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 arrived in Madinah Munawwarah ahead of his meeting in Riyadh today under the Makkah Joint Defence Agreement.
He was received by Pakistan’s Ambassador to Saudi Arabia, Pakistan’s Consul General in Jeddah, Director General of the Saudi Ministry of Foreign Affairs Madinah Branch, and the Saudi Royal Protocol.
The DPM/FM paid respects at Roza-e-Rasool ﷺ and offered prayers for the peace and prosperity of Pakistan, the well-being of its people and the Muslim Ummah, as well as for regional peace and stability. He also visited Jabal Uhud, where he paid homage to the Shuhada-e-Uhud and offered prayers.
The DPM/FM has since proceeded to Riyadh to participate in the meeting of the Strategic Political and Defence Committee (SPDC), where he will join Defence Minister Khawaja Muhammad Asif and Chief of Defence Forces Field Marshal Syed Asim Munir, along with counterparts representing the Kingdom of Saudi Arabia and the Republic of Türkiye.
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 5, 2026
ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دی اور پاکستان کے امن و خوشحالی، پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود، اور مسلم امہ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے دعائیں کیں۔
اسحاق ڈار جبلِ اُحد بھی گئے اور شہدائے اُحد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعدازاں وہ ریاض روانہ ہو گئے جہاں وہ اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
حوثیوں کے زیر قبضہ علاقے آزاد کرانے کا فیصلہ
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے حوثیوں کے خلاف شروع کیے گئے فوجی آپریشن کا مقصد زیر قبضہ یمنی علاقے آزاد کرانا ہے۔
رواں ہفتے خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن میں سعودی عرب فضائی کارروائیوں کی قیادت کرے گا جبکہ یمنی فورسز زمینی محاذ پر لڑیں گی۔
رائٹرز کے مطابق امریکا پہلے ہی یمن میں سعودی کارروائیوں کی معاونت کیلئے انٹیلی جنس فراہم کررہا ہے، جبکہ بعض علاقائی اور یورپی ممالک سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی فوجی امداد فراہم کررہے ہیں۔
یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا کہ فوجی آپریشن کا مقصد جمہوریہ کے باقی ماندہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا، پورے ملک میں ریاست اور اس کے اداروں کی عمل داری بحال کرنا اور یمن کو حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرانا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تنازع کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے تمام امکانات ختم ہونے کے بعد جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
طائز میں شدید لڑائی، 70 سے زائد ہلاکتیں
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کے صوبے طائز اور اس کے اطراف میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی لڑائی میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ 34 فوجی مارے گئے، جن میں سے 20 پڑوسی صوبے لحج میں طائز کی سرحد کے قریب ہلاک ہوئے۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ طائز اور لحج سے متصل سرحدی علاقوں میں لڑائی کے دوران ان کے 39 جنگجو مارے گئے۔ حوثیوں کی جانب سے محصور شہر طائز کو حکومت کے عبوری دارالحکومت عدن سے ملانے والی اہم سپلائی روٹ بھی منقطع کرنے کی رپورٹس ہیں۔
یمن میں نئی فوجی کارروائی ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر درجنوں حملے کیے جس کے بعد حوثیوں نے ریاض کے جنوب میں واقع سعودی آئل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان حملوں کا سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر قبضہ کرکے باب المندب آبنائے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔



