پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا جس میں خطے کی بدلتی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو بتایا تھا کہ مکہ معاہدے کے تحت قائم مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس سعودی عرب پرحوثیوں کے حملوں پر توجہ مرکوز کرے گا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارسعودی عرب پہنچ گئے، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی آج سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ریاض پہنچیں گے۔
🔊 PR No. 2️⃣7️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Curtain Raiser: Meeting of the Strategic Political and Defence Committee (SPDC) under the Makkah Agreement
🔗⬇️ https://t.co/NNFmZmSQoS
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 5, 2026
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی وفد مکہ معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرے گا،اجلاس میں سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیفس آف جنرل اسٹاف بھی شرکت کریں گے۔
اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال اور مکہ معاہدے کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیا جائے گا،اجلاس میں پاکستان کی شرکت علاقائی امن و استحکام میں مسلسل کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار آج ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والے اجلاس میں شرکت سے قبل مدینہ منورہ پہنچے۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 arrived in Madinah Munawwarah ahead of his meeting in Riyadh today under the Makkah Joint Defence Agreement.
He was received by Pakistan’s Ambassador to Saudi Arabia, Pakistan’s Consul General in Jeddah, Director General of the Saudi Ministry of Foreign Affairs Madinah Branch, and the Saudi Royal Protocol.
The DPM/FM paid respects at Roza-e-Rasool ﷺ and offered prayers for the peace and prosperity of Pakistan, the well-being of its people and the Muslim Ummah, as well as for regional peace and stability. He also visited Jabal Uhud, where he paid homage to the Shuhada-e-Uhud and offered prayers.
The DPM/FM has since proceeded to Riyadh to participate in the meeting of the Strategic Political and Defence Committee (SPDC), where he will join Defence Minister Khawaja Muhammad Asif and Chief of Defence Forces Field Marshal Syed Asim Munir, along with counterparts representing the Kingdom of Saudi Arabia and the Republic of Türkiye.
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 5, 2026
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مدینہ منورہ پہنچنے پر سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر، جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل، سعودی وزارت خارجہ کی مدینہ شاخ کے ڈائریکٹر جنرل اور سعودی شاہی پروٹوکول کے حکام نے ان کا استقبال کیا۔
اسحاق ڈار نے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دی، پاکستان کے امن و خوشحالی، پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود، مسلم امہ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے دعائیں کیں، اسحاق ڈار جبلِ اُحد بھی گئے، شہدائے اُحد کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے دعا کی۔
بعدازاں اسحاق ڈار ریاض روانہ ہو گئے جہاں وہ اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
یمنی حکومت کا حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا آغاز
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔
یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مسلح افواج کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے اور منظور شدہ منصوبوں کے مطابق کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
رشاد العلیمی نے کہا کہ فوجی آپریشن کا مقصد جمہوریہ کے باقی ماندہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا، پورے ملک میں ریاست اور اس کے اداروں کی عمل داری بحال کرنا اور یمن کو حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرانا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تنازع کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے تمام امکانات ختم ہونے کے بعد جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
طائز میں شدید لڑائی، 70 سے زائد ہلاکتیں
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یمن کے صوبے طائز اور اس کے اطراف میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی لڑائی میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ 34 فوجی مارے گئے، جن میں سے 20 پڑوسی صوبے لحج میں طائز کی سرحد کے قریب ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب حوثی فوجی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ طائز اور لحج سے متصل سرحدی علاقوں میں لڑائی کے دوران ان کے 39 جنگجو مارے گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے محصور شہر طائز کو حکومت کے عبوری دارالحکومت عدن سے ملانے والی اہم سپلائی روٹ بھی منقطع کردی ہے۔
سعودی عرب اور حوثیوں میں حملوں کا تبادلہ
یمن میں نئی فوجی کارروائی ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر درجنوں حملے کیے جس کے بعد حوثیوں نے ریاض کے جنوب میں واقع سعودی آئل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان حملوں کا سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر قبضہ کرکے باب المندب آبنائے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
سعودی عرب کی قیادت میں کارروائی کی اطلاعات
علاقائی اور مغربی حکام نے رواں ہفتے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ سعودی عرب اور اس کے یمنی اتحادی حوثیوں کے خلاف حملے کی تیاری کررہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب فضائی کارروائیوں کی قیادت کرے گا جبکہ یمنی فورسز زمینی محاذ پر لڑیں گی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکا پہلے ہی یمن میں سعودی کارروائیوں کی معاونت کیلئے انٹیلی جنس فراہم کررہا ہے، جبکہ بعض علاقائی اور یورپی ممالک سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی فوجی امداد فراہم کررہے ہیں۔



