امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو وہ امریکا کے ہر بالغ شہری کو 5 ہزار ڈالر دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے ستمبر میں ریپبلکن مڈٹرم کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ریپبلکنز دونوں ایوانوں میں کامیاب ہوئے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر کا ڈیوڈنڈ جاری کریں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس منصوبے کی سب سے بڑی بحث اس کی مالی لاگت اور فنڈنگ سے متعلق ہے۔ سی این این کے تجزیے کے مطابق امریکا میں تقریباً 270 ملین بالغ افراد ہیں، جس حساب سے 5 ہزار ڈالر فی شخص کی ادائیگی کی مجموعی لاگت تقریباً 1.35 ٹریلین ڈالر بن سکتی ہے۔
رائٹرز نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ کے اعلان پر اقتصادی ماہرین اور کانگریس کے بعض ریپبلکن ارکان نے منصوبے کے قابلِ عمل ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے اس سے قبل بھی امریکی شہریوں کو براہِ راست رقم دینے کی تجاویز سامنے آ چکی ہیں۔
If Republicans win the House of Representatives and the Senate in the 2026 Midterm Elections, I’m going to give all adult citizens in the United States of America, $5,000! Thank you for your attention to this matter, and I look forward to signing those checks! pic.twitter.com/YOkESiUBrc
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) October 3, 2026
;
ٹرمپ کا مؤقف: ٹیرف آمدنی سے رقم دی جائے گی
ٹرمپ کے منصوبے کی ممکنہ مالی بنیاد کے طور پر ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حوالہ سامنے آیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس تجویز کو امریکی کارکنوں کے لیے ’’ڈیویڈنڈ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت غیر ملکی کمپنیوں اور ممالک سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی استعمال کرسکتی ہے۔
تاہم سی این این کی رپورٹ کے مطابق موجودہ ٹیرف آمدنی اس حجم کی ادائیگی کے لیے کافی ہونے پر سوالات موجود ہیں، رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ امریکی حکومت کو بعض ٹیرف رقوم عدالتی فیصلوں کے بعد واپس بھی کرنا پڑی ہیں۔
کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی؟
اس منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ صدر کے اعلان کے باوجود اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کے لیے قانون سازی اور کانگریس کے کردار کا سوال موجود ہے۔
سی این این سے گفتگو میں سابق ریپبلکن رکنِ ایوانِ نمائندگان چارلی ڈینٹ نے کہا کہ اس نوعیت کی ادائیگی کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی اور انہوں نے اس منصوبے کے قانونی و مالی پہلوؤں پر سوال اٹھائے۔ یہ ان کی رائے ہے، حتمی قانونی فیصلہ نہیں۔
ٹرمپ نے وعدے کو دوبارہ دہرایا
تازہ ترین صورتحال میں ٹرمپ نے اس وعدے کو واپس نہیں لیا۔ 3 اکتوبر کو رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے ایک الگ اعلان کے تحت 20 ملین سے زائد میڈیکیئر صارفین کو ایک مرتبہ 90 ڈالر دینے کا منصوبہ بھی پیش کیا اور اسی تناظر میں اپنے 5 ہزار ڈالر کے مجوزہ ’’ٹرمپ ڈیویڈنڈ‘‘ کا حوالہ دوبارہ دیا۔
رائٹرز کے مطابق 90 ڈالر کی ادائیگی میڈیکیئر امپروومنٹ فنڈ سے کی جائے گی، جس کے لیے کانگریس نے 2 ارب ڈالر مختص کیے تھے۔ یہ منصوبہ 5 ہزار ڈالر کی مجوزہ ادائیگی سے الگ ہے۔
انتخابی پس منظر
5 ہزار ڈالر کی تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول داؤ پر ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس وقت ریپبلکن پارٹی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت رکھتی ہے، جبکہ نومبر کے انتخابات میں اس اکثریت کا فیصلہ دوبارہ ہوگا۔
کیا ٹرمپ کا 5 ہزار ڈالر دینے کا وعدہ قانونی ہے؟ ماہرین کی رائے منقسم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کامیابی کی صورت میں ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر دینے کے وعدے نے اس کی قانونی حیثیت پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وفاقی قانون کے تحت کسی شخص کے ووٹ کو کسی مخصوص امیدوار، جماعت یا سیاسی انتخاب کے حق میں متاثر کرنے کے مقصد سے ادائیگی کرنا غیر قانونی ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے بیان کی قانونی حیثیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ اس وعدے کو قانوناً کس نوعیت کا اقدام تصور کیا جاتا ہے اور رقم کی ادائیگی کس طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے۔
’’یہ رشوت کے بجائے ٹیکس میں کمی کے وعدے جیسا ہوسکتا ہے‘‘
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کی قانون کی لیکچرر ڈاکٹر جان مہونی نے کہا کہ ان کے خیال میں ٹرمپ کا وعدہ قانونی ہوسکتا ہے، اگرچہ سیاست دان عام طور پر انتخابی وعدہ اس انداز میں واضح طور پر نہیں کرتے۔
ان کے مطابق بظاہر یہ بات ووٹ کے بدلے رقم دینے کی پیشکش جیسی محسوس ہوسکتی ہے، جو غیر قانونی ہوگی، لیکن اگر ادائیگی ہر بالغ شہری کو ملنی ہے، قطع نظر اس کے کہ اس نے کس کو ووٹ دیا، تو معاملہ مختلف ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر مہونی نے اسے سیاسی جماعت کی جانب سے ٹیکس کم کرنے کے انتخابی وعدے سے تشبیہ دی، جو قانونی سیاسی وعدہ ہے۔ ان کے مطابق اگر رقم تمام اہل شہریوں کو یکساں طور پر دی جائے تو اسے براہِ راست کسی فرد کے ووٹ خریدنے کی ادائیگی قرار دینا مختلف قانونی سوالات پیدا کرے گا۔
’’یہ معمول کے انتخابی وعدے سے مختلف اور زیادہ لین دین جیسا ہے‘‘
تاہم چیتھم ہاؤس کے امریکی اور شمالی امریکا پروگرام کی ڈائریکٹر لوریل ریپ نے بی بی سی سے گفتگو میں مختلف نقطۂ نظر پیش کیا۔
ان کے مطابق ٹرمپ کی پیشکش عام انتخابی وعدوں، مثلاً ٹیکس میں کمی یا کسی حکومتی پالیسی میں تبدیلی، سے خاصی مختلف اور زیادہ براہِ راست لین دین پر مبنی محسوس ہوتی ہے۔
اس طرح قانونی بحث کا ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کے بیان کو انتخابی مہم کے عمومی پالیسی وعدے کے طور پر دیکھا جائے گا یا اسے ووٹرز کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کے لیے ذاتی مالی فائدے کی پیشکش سمجھا جائے گا۔
رقم کہاں سے آئے گی؟
اس منصوبے کے قانونی سوال کے ساتھ اس کی مالی اور انتظامی ساخت بھی اہم ہے۔ ٹرمپ نے 5 ہزار ڈالر کی رقم کو ’’ڈیویڈنڈ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کے لیے ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حوالہ دیا ہے۔
اگر لاکھوں بالغ امریکی شہریوں کو 5 ہزار ڈالر فی کس دیے جائیں تو مجموعی رقم ایک ٹریلین ڈالر سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس لیے اس منصوبے کے لیے کانگریس کی قانون سازی، فنڈنگ کے واضح ذریعے اور ادائیگی کا باقاعدہ قانونی طریقہ کار بھی اہم ہوگا۔
یہ بھی اہم ہے کہ انتخابی وعدہ خود کسی شہری کو فوری طور پر رقم کا قانونی حق نہیں دیتا۔ اگر ٹرمپ یا ریپبلکن پارٹی اس منصوبے کو عملی شکل دینا چاہتی ہے تو اسے موجودہ وفاقی قوانین، بجٹ کے قواعد اور کانگریس کے اختیارات کے دائرے میں لانا ہوگا۔
یوں اس معاملے میں دو الگ قانونی سوالات سامنے آتے ہیں، ایک یہ کہ انتخابی مہم کے دوران ایسا وعدہ ووٹ خریدنے کے قانون کے تحت قابلِ اعتراض ہے یا نہیں اور دوسرا یہ کہ انتخابات کے بعد وفاقی حکومت کو واقعی ایسی ادائیگی کرنے کے لیے کس قسم کی قانون سازی اور بجٹ منظوری درکار ہوگی۔
فی الحال قانونی ماہرین کے درمیان اس وعدے کی نوعیت پر مختلف آرا موجود ہیں جبکہ حتمی قانونی حیثیت کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ مجوزہ ادائیگی کو کس قانون کے تحت اور کس طریقہ کار سے نافذ کیا جاتا ہے۔



