امریکی ریاست فلوریڈا میں وفاقی گرینڈ جیوری نے پاکستانی شہری فہیم اکرم پر جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ اور شپنگ لیبل فروخت کرکے امریکی محکمہ ڈاک (یو ایس پی ایس) کو 126 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچانے کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی۔
امریکی محکمہ انصاف کی ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 33 سالہ فہیم اکرم کا تعلق پنجاب کے شہر خانیوال سے ہے۔ اور ان پر الزام ہے کہ وہ لیبلز بینک ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ چلا رہے تھے، جہاں مبینہ طور پر جعلی امریکی ڈاک لیبل فروخت کیے جاتے تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ویب سائٹ پر عموماً 2 ڈالر فی لیبل کے حساب سے ڈاک لیبل فروخت کیے جاتے تھے، جبکہ پیکج کے وزن، سائز یا منزل کے مطابق اصل یو ایس پی ایس فیس اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی تھی۔
حکام کے مطابق ویب سائٹ کو امریکی محکمہ ڈاک کی مصنوعات یا خدمات فروخت کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ 5 ہزار 200 سے زائد افراد نے ویب سائٹ کے ذریعے 51 لاکھ سے زیادہ جعلی شپنگ لیبل خریدے، جس کے نتیجے میں امریکی محکمہ ڈاک کو مبینہ طور پر 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔
امریکی حکام کے مطابق فرد جرم عائد کیے جانے کے ساتھ ہی عدالت کے حکم پر ویب سائٹ کو بند اور اس کے ڈومین کو ضبط کر لیا گیا ہے۔
فہیم اکرم پر امریکا کو دھوکا دینے اور جعلی ڈاک ٹکٹ بنانے و فروخت کرنے کی سازش کی ایک دفعہ، جعلی ڈاک ٹکٹ لیبل بنانے اور فروخت کرنے کی 5 دفعات جبکہ وائر فراڈ کی 4 دفعات عائد کی گئی ہیں۔
We shut down his website. Now we need your help finding him.
Faheem Akram is charged with operating a counterfeit postage scheme that allegedly sold more than 5 million fake shipping labels and caused more than $126 million in losses to the U.S. Postal Service.
The U.S. Postal Inspection Service is offering a reward of up to $100,000 for information leading to his arrest and conviction.
If you know where he is, call Postal Inspectors at 1-877-876-2455 and say “Law Enforcement.”
Do not attempt to apprehend him yourself.
— U.S. Attorney Jason Reding Quiñones (@USAReding) October 5, 2026
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں سازش اور جعلی ڈاک ٹکٹ سے متعلق دفعات پر زیادہ سے زیادہ 5 سال جبکہ وائر فراڈ کی ہر دفعہ پر 20 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس کی میامی ڈویژن اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔



