ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے متحدہ عرب امارات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب پر سکیورٹی کے لیے انحصار کرنے والے ممالک بالآخر اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی میں مشکلات اور بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سپریم لیڈر کے مشیر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور امارات کے درمیان علاقائی سکیورٹی اور تین متنازع جزائر کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک گریٹر تنب، لیزر تنب اور ابوموسیٰ جزائر پر ایک دوسرے سے مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔
علی اکبر ولایتی نے ایکس پر متعدد پیغامات میں گریٹر تنب، لیزر تنب اور ابوموسیٰ جزائر پر ایران کے دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ جزائر ایران کے تھے اور ایران کے ہی رہیں گے۔
۱) همسایه میماند و مهمان میرود
کشوری که عمر سیاسیاش به نیم قرن نمیرسد،از تریبون سازمان ملل درباره جزایری ادعا میکند که در اسناد و نقشههای تاریخی قرون گذشته با نام ایران ثبت شدهاند. جغرافیا با بیانیه عوض نمیشود.تنب بزرگ،تنب کوچک و ابوموسی ایرانی بودهاند و ایرانی میمانند— Aliakbar Velayati (@Drvelayati_ir) October 3, 2026
انہوں نے امارات کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان جزائر پر ملکیت کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیانات سے جغرافیہ تبدیل نہیں ہوتا۔
یہ تین جزائر خلیج فارس کے ایک اہم حصے میں واقع ہیں جس پر ایران کا کنٹرول ہے، ان جزائر کا انتظام 1971 سے ایران کے پاس ہے جبکہ متحدہ عرب امارات بھی ان جزائر کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔ تینوں جزائر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں، جس کی وجہ سے ان کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ابوموسیٰ اور تنبِ بزرگ پر ایران کی عسکری موجودگی بھی اس تنازع کو محض تاریخی یا سفارتی مسئلہ نہیں رہنے دیتی۔
حالیہ جنرل اسمبلی اجلاس میں اماراتی حکام نے اس تنازع کو مذاکرات یا عالمی عدالت انصاف کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے پر زور دیا تھا، جبکہ ایران نے اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
سپریم لیڈر کے مشیر نے اس طرزِ عمل کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام اس صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔ خطے کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’درآمد شدہ سکیورٹی‘‘ کی ایک مدت ہوتی ہے اور ہمسایہ ملک موجود رہتا ہے جبکہ باہر سے آنے والا مہمان چلا جاتا ہے۔
۱) همسایه میماند و مهمان میرود
کشوری که عمر سیاسیاش به نیم قرن نمیرسد،از تریبون سازمان ملل درباره جزایری ادعا میکند که در اسناد و نقشههای تاریخی قرون گذشته با نام ایران ثبت شدهاند. جغرافیا با بیانیه عوض نمیشود.تنب بزرگ،تنب کوچک و ابوموسی ایرانی بودهاند و ایرانی میمانند— Aliakbar Velayati (@Drvelayati_ir) October 3, 2026
ایرانی رہنما کے مشیر نے امارات پر اس حوالے سے بھی تنقید کی کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حالیہ دورہہ ابوظہبی کے تقریباً ایک ہفتے بعد امارات عرب حقوق اور اسلامی یکجہتی کی بات کر رہا ہے۔



