اسلام آباد:حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے تناظر میں ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور تاخیر کا شکار، اجلاس کا باقاعدہ آغاز مقررہ وقت کے ایک گھنٹے بعد بھی نہ ہو سکا۔
دوسرے دور میں شرکت کے لیے پالیمینٹ ہاؤس پہنچنے پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ آج کا دن پاکستانی قوم کے لیے اہم ہے، قوم ہمارے ساتھ کھڑی ہے اور ہم اس کا اعتماد اور طاقت لے کر یہاں عقل کی بات کرنے آئے ہیں اور قوم کی طاقت کو ریاست کی طاقت بنانے آئے ہیں۔
مطالبات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم بنیادی مطالبات ان کے سامنے کل بھی رکھ چکے ہیں اور آج بھی رکھیں گے۔ ہم اسیران کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے کسی طرح کا کمپرومائز نہیں کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا بنیادی مطالبہ عمران خان تک رسائی ہے اور وہ اس ملک میں شرافت اور آئین و انصاف کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے مطالبات منظور نہ کیے جانے کی صورت میں ان کا کہنا تھا کہ “اگر یہ نہیں مانتے تو پھر ہم آخری دم تک پاکستانی قوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ “پاکستانی قوم حق رکھتی ہے اس دھرتی پر چلنے کا اور اپنی آواز بلند کرنے کا اور ہم اس حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ عوام عمران خان کی رہائی اور اس ملک میں انصاف دیکھنا چاہتے ہیں۔ “قوم چاہتی ہے کہ ہمارے تمام اسیران بالخوص ہماری خواتین ڈاکٹر یاسمین راشد، بشریٰ بی بی، عمران خان کی تینوں بہنیں، فلک بی بی، صنم بی بی، عالیہ حمزہ، ان سب کو ریلیف ملے۔”
مذاکرات کا پہلا دور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت گزشتہ روز ہوا تھا جسے فریقین نے ‘مثبت’ قرار دیتے ہوئے ‘اچھے نتیجے’ کی امید ظاہر کی تھی۔
ذرائع کے مطابق اس دوران دونوں جانب سے مطالبات پیش کیے گئے۔ پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کو اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے اور انہیں اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد نے پی ٹی آئی کے مطالبات کی منظوری کو 4 اکتوبر کو اناؤنس کیے گئے مارچ کو ‘منسوخ یا ملتوی’ کرنے سے مشروط کیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے عمران خان سے متعلق عدالتی حکم پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کرائی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن اراکین کے اجلاس کا پہلا دور اختتام پذیر، ترجمان قومی اسمبلی
حکومتی وفد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ملک کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی، ترجمان قومی اسمبلی
حکومت، پاکستان پیپلز… pic.twitter.com/noGdcLYVTy
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) October 2, 2026
تاہم اطراف کے نمائندوں نے ان کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اجلاس کی تفصیل راز میں رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔
دوسرے دور سے قبل حکومتی وفد کے رکن اور وفاقی وزیر امیرمقام نے پارلیمنٹ میں صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات سےاچھی امید رکھنی چاہیے، کل فریقین نے ایک دوسرے کوسن لیا تھا اب آج دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔
اسی طرح مذاکراتی وفد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے پارلیمنٹ میں صحافیوں کو بتایا کہ امید کی بنیاد پرمذاکرات کرتے ہیں اور توقعات اچھی رکھتےہیں۔
تحریک انصاف اور حکومتی اتحاد کے مذاکرات شروع ہونے سے قبل پیپلز پارٹی راہنما شیری رحمان کی میڈیا سے گفتگو pic.twitter.com/NTbusvFo1F
— Sanaullah Khan (@SanaullahDawn) October 3, 2026
ان کا کہنا تھا کہ جمہوری طریقےسےمعاملات حل ہوں تو بہتری ہوتی ہے تاہم انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے مذاکرات کے درمیان لانگ مارچ کا آغاز کرنے کے اعلان اور ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ پر کوئی بات کرنے سے انکار کر دیا۔
سہیل آفریدی نے ایکس پر جاری بیان میں تحریک انصاف کو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ “پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے.”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ شروع کرنے کے ایک بار پھر اعلان کیا اور کہا کہ “ہم 9 مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے 9 مئی کروایا۔”
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد…
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) October 3, 2026
مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، پارٹی نے اپنے مطالبات پیش کردیے ہیں اور امید ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے بھی پہلے دور کو مثبت قرار دیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کی تفصیلات خفیہ رکھی جانی چاہئیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے اپنی سنجیدگی ثابت کرے کیونکہ ملکی بحران کو دور کرنا بالاآخر حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کے باوجود پی ٹی آئی نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مارچ سے متعلق پارٹی کا آئندہ لائحہ عمل حکومت کے رویے اور مذاکرات میں پیش رفت سے طے ہوگا۔
سہیل آفریدی کا مارچ کے آغاز کا اعلان
ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا اور وہ خود قافلے کی قیادت کریں گے۔
گزشتہ روز پشاور میں پی ٹی آئی سیکریٹریٹ میں فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کارکنوں سے احتجاج میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کی اپیل کی۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق مارچ کا پہلا پڑاؤ کرک ہوگا، جس کے بعد 5 اکتوبر کو قافلہ کوہاٹ پہنچے گا۔
View this post on Instagram
قافلے کی 6 اکتوبر کی شب پشاور کے قریب متنی پہنچنے کی منصوبہ بندی ہے، جہاں سے 7 اکتوبر کی صبح اسلام آباد کی جانب سفر دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ مارچ کا تفصیلی شیڈول جمعے کی شب کارکنوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
انہوں نے بالخصوص خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع کے کارکنوں کو بڑی تعداد میں مارچ میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ احتجاج پُرامن ہوگا، اس لیے شرکا کسی قسم کی بدنظمی سے گریز کریں۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا فیصلہ جمعرات کو صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کے بعد کیا گیا تھا، جس میں سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے پی ٹی آئی سے بات چیت پر اتفاق کیا گیا۔
4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کا پہلا قافلہ وزیرستان سے روانہ ہو گیا ہے۔ گنڈی چوک پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا استقبال کیا جائے گا۔
باقی تمام اضلاع بھی خود کو تیار رکھیں۔ ان شاء اللہ، کل 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا آغاز ہوگا۔ جنوبی اضلاع کے… pic.twitter.com/nYwqyPYplV— Junaid Akbar (@JunaidAkbarMNA) October 3, 2026
مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورت حال پر تشویش پائی جاتی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی و قانونی آپشنز، بشمول ایمرجنسی اور گورنر راج، پر غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
تاہم ان میں سے کسی اقدام کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔



