وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ٹی ٹی پی عناصر کیساتھ مل کر بدامنی اور تشدد کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، 9 مئی جیسی دہشتگردی کی کوشش کی گئی تو اسے مکمل طور پر کچل دیا جائے گا۔
ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے اور پاکستان میں لانگ مارچ کا خطرناک منصوبہ تیار کیا ہے، صوبائی حکومت کو پارٹی قیادت کی حمایت حاصل ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کا اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، گزشتہ روز حکومت اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے جس میں حکومت نے لانگ مارچ ‘منسوخ یا ملتوی’ کرنے کی درخواست کی جبکہ پی ٹی آئی کا مطالبہ عمران خان کی رہائی کا ہے، گزشتہ روز مذاکرات میں کوئی بڑی پشرفت نہیں ہوئی تھی، مذاکرات کا اگلا دور آج ہفتے کو ہو گا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مذموم منصوبے کو سمجھنے کیلئے 15 جولائی 2024 کے بنوں واقعے کی طرز سمجھنا ضروری ہے، جہاں ٹی ٹی پی کے گل بہادر گروپ نے بنوں کینٹ پر خودکش حملہ کیا، اس حملے میں 8 فوجی جوان شہید ہوئے تھے۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت، جسے اس کی صوبائی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے، نے صوبہ خیبر پختونخوا بالخصوص اور پاکستان بالعموم میں اپنے آنے والے لانگ مارچ کے ذریعےTTPکے عنصر کے ساتھ مل کے بدامنی اور تشدد پھیلانے کا ایک انتہائی خطرناک اور مذموم منصوبہ تیار کر لیا ہے
اس مذموم منصوبے کو جاننے سے پہلے 15 جولائی 2024 کو پیش آنے والے بنوں واقعہ کی طرز کو سمجھنا بہت ضروری ہے، جس میں ٹی ٹی پی کے گل بہادر گروپ نے پہلے بنوں کینٹ پر خودکش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 8 فوجی جوان شہید ہوئے، جبکہ حملے کے چار روز بعد 19 جولائی 2024 کو بنوں میں انتشاری طرز کا ایک مظاہرہ کیا گیا جس میں سیاسی و قوم پرست شرپسند عناصر، جن میں تحریک انصاف اور پی ٹی ایم سے منسلک گروہ بھی شامل ہو گئے ۔ ان پر تشدد مظاہرین نے کینٹ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے، ان شر پسند عناصر نے جان بوجھ کر ہجوم کا رخ براہِ راست کینٹ کے سپلائی ڈپو کی ٹوٹی ہوئی دیوار کا فائدہ اٹھا کر لوٹ مار شروع کی۔ اور جب سیکورٹی فورسز مزاحمت کی تو ھجوم طرف فائرنگ کا آغاز کیا گیا…..
مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس دفعہ بھی 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ جو کے مشکوک ترین طور پر اب صرف خیبر پختونخوا میں ہی گھمایا جائے گا, تحریک انصاف صوبائی حکومت نے اپنے فتنہ الخوارج ساتھیوں کی مدد سے پارٹی کے شر پسند جتھوں کو پہلے سے بنوں سٹائل حملے کرنے کے لئے منصوبہ بندی اور تیاری کر رکھی ہے تاکہ مظاہرین اور جلسے جلوس کی آڑ میں فوجی یا پولیس تنصیبات یا پوسٹوں کے آس پاس افراتفری پھیلا کر بد امنی اور انتشار پھیلایا جا سکے۔
یہ واضح پیغام تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اورلانگ مارچ کے منتظمین کے لئے وقت سے پہلے کلیئر کٹ وارننگ ہے کے لانگ مارچ کے کسی بھی مرحلے میں کسی بھی بہانے سے اگر 9 مئی جیسی دہشت گردی کرنے کی کوئی کوشش بھی کی گئی تو اس دفعہ ایسی ہر کوشش کو مکمل طور پر کچل دیا جائے گا اور ایسا کرنے والوں کو دہشت گردوں کی طرح ٹھکانے لگایا جائے گا تاکہ ریاست پر دہشت گردوں کی مدد سے پر تشدد حملوں کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا جائے۔
یہ بھی واضح ھو جانا چاہیے کہ سیاسی جدوجہد اورمسلح بغاوت میں واضح فرق ھے۔ سیاسی جدوجہد کے لئیے پاکستان اور ساری دنیا میں مثالیں اور روایت موجود ھیں۔ مگر جب سیاسی جدوجہد کے لبادہ میں بھارت سپانسرڈ TTP کے ساتھ مل کرمسلح بغاوت بپا کی جاۓ گی تو یہ ملک کی سالمیت پہ حملہ تصور کیا جاۓ گا۔ اور پھر دفاع کے لئے تمام وسائل استعمال کیے جاینگے ۔ انشا ء اللہ
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 2, 2026
وزیر دفاع نے کہا کہ حملے کے 4 روز بعد 19 جولائی 2024 کو بنوں میں انتشاری طرز کا مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے میں تحریک انصاف اور پی ٹی ایم سے منسلک شرپسند عناصر بھی شامل ہوئے، مظاہرین نے دہشتگردوں کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے کینٹ سپلائی ڈپو کا رخ کیا، اور سپلائی ڈپو کی ٹوٹی ہوئی دیوار کا فائدہ اٹھا کر لوٹ مار شروع کی، سکیورٹی فورسزکی مزاحمت پر ہجوم کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔
لانگ مارچ خیبر پختونخوا میں گھمایا جائے گا
خواجہ آصف نے کہا کہ 4 اکتوبر سے شروع ہونے والا لانگ مارچ مشکوک طور پر صرف خیبر پختونخوا میں گھمایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی جیسی دہشتگردی کی کوشش کی گئی تو اسے مکمل طور پر کچل دیا جائے گا، تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور لانگ مارچ منتظمین کیلئے یہ واضح وارننگ ہے، پرتشدد حملوں کی کوشش کرنے والوں کو دہشتگردوں کی طرح ٹھکانے لگایا جائے گا۔
سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت میں واضح فرق
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ بھی واضح ہو جانا چاہیے کہ سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت میں واضح فرق ہے۔ سیاسی جدوجہد کے لئیے پاکستان اور ساری دنیا میں مثالیں اور روایت موجود ہیں مگر جب سیاسی جدوجہد کے لبادہ میں بھارت اسپانسرڈ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر مسلح بغاوت بپا کی جائے گی تو یہ ملک کی سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا اور پھر دفاع کے لئے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔



