وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو گنڈی چوک لکی مروت سے شروع کیا جائے گا اور 6 اکتوبر کی رات پشاور کے علاقے متنی پہنچیں گے۔
پی ٹی آئی سیکرٹریٹ پشاور میں فنڈ ریزنگ کے موقع پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ 4 اکتوبر کو لانگ مارچ دھوم دھام سے نکلے گا اور کارکن بھرپور تیاری کے ساتھ اس میں شریک ہوں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 4 اکتوبر کو پوری دنیا کو پیغام دیں گے کہ غیرت مند پشتون بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے جنوبی ریجن کے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نکلیں اور حکمرانوں کی نیندیں حرام کردیں۔
سہیل آفریدی نے کارکنوں سے کہا کہ یہ جنگ عوام نے خود لڑنی ہے، عوام گھروں سے تیار ہوکر نکلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ظلم کررہا ہے، اس کے خلاف لڑنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حق کا علم بلند کرنا ہے، پرامن رہنا ہے اور کسی کو انتشار پھیلانے نہیں دینا۔
”یہ جنگ آپ نے خود لڑنی ہے، اس جنگ میں ہر پاکستانی نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ممکن ہے ہم آپ کے لیے ٹرانسپورٹ، واش رومز یا خوراک کا مکمل بندوبست نہ کر پائیں، اس لیے آپ نے اپنے گھروں سے تیار ہو کر نکلنا ہے۔
ان شاء اللہ یہ جدوجہد ہے، آپ نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے۔ کسی ظالم کو… pic.twitter.com/PBIrjMmMBs
— PTI (@PTIofficial) October 2, 2026
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ لانگ مارچ کا مزید پلان کارکنوں کو آج رات دے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق لانگ مارچ 6 اکتوبر کی رات متنی پشاور پہنچے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اس بار جیت نوجوانوں کی اور عام عوام کی ہوگی۔
لانگ مارچ کا مجوزہ شیڈول
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری ابتدائی شیڈول کے مطابق لانگ مارچ 4 اکتوبر کو گنڈی چوک لکی مروت سے شروع ہوگا، پہلے مرحلے میں کرک جبکہ 5 اکتوبر کو کوہاٹ میں پڑاؤ ہوگا، جس کے بعد قافلہ پشاور کی جانب روانہ ہوگا۔
پی ٹی آئی نے اس لانگ مارچ کی تاریخ پہلے 27 ستمبر مقرر کی تھی، تاہم بعد میں اسے تبدیل کرکے 4 اکتوبر کردیا گیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا تھا کہ مارچ پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔
آج کے مذاکرات کا پس منظر
آج اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا ہے جس میں پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں، اس حوالے سے مذاکرات کا دوسرا دور کل ہو گا۔
یوں ایک طرف پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔



