خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے آغاز سے ایک روز قبل اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ہم 9 مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔”
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں سہیل آفریدی نے نام لیے بغیر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ “جنہوں نے ڈان لیکس کروائے۔۔۔وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔”
مریم نواز کے 5 ستمبر کو پنجاب کو ‘پڑوسی ممالک’ کے بجائے ‘پڑوسی صوبوں’ سے دہشت گردی کے زیادہ خطرات ہونے کے متنازع بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ “جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے۔۔۔جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے۔۔۔وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔”
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد…
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) October 3, 2026
لانگ مارچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ “4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔”
لیگی اور حکومتی رہنماؤں کی جانب سے پی ٹی آئی پر پر تشدد ہونے اور ‘اسلام آباد پر حملہ آور’ ہونے کے الزامات کے جواب میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ “جس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے 9 مئی کروایا۔”
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں نے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج شروع کر دیے تھے، بعض مقامات پر احتجاج پرتشدد ہوگیا اور سرکاری و فوجی تنصیبات، گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے۔
ان پر تشدد واقعات کے کیسز میں یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری، اور عمر سرفراز چیمہ سمیت تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کو عدالت سے سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
دوسری جانب گزشتہ روز کور کمانڈر کانفرنس میں بھی متنبہ کیا گیا تھا کہ “کسی بھی جواز پر، پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو فیصلہ کُن طاقت اور قانون کے ساتھ بلاامتیاز اور بلا جھجھک نمٹا جائے گا۔”
‘دہشت گردی بیانیے کی جنگ نہیں ہے’
سہیل آفریدی نے کہا کہ “دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی ‘بیانیے کی جنگ’ نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے-
ان کے مطابق عمران خان کا مؤقف رہا ہے کہ “اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے” جبکہ ڈرون حملوں اور عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصان سے “دہشت گردی بڑھتی” ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں اب یہ صرف پی ٹی آئی کا مؤقف نہیں بلکہ “ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کا ثبوت صوبائی اسمبلی کے جرگے میں موجود دستخط ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کے دور میں پاکستان اور خیبرپختونخوا “ٹیرورزم نہیں ٹورازم” کے لیے جانے جاتے تھے، تاہم “رجیم چینج” کے بعد ان کے بقول صوبے میں دہشت گردی دوبارہ مسلط کی گئی۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں 100 دن کے اندر امن قائم کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کے لیے موجودہ پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔
یاد رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں جن کا دوسرا دور آج 3 بجے ہوگا۔ پہلے دور کے بارے میں اپوزیشن اور حکومتی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ‘مثبت ماحول’ میں بات چیت ہوئی اور امید ہے کہ ‘بات بڑھے گی‘۔
انشاء اللہ آج سہ پہر 3 بجے اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں حکومتی اور اپوزیشن وفود کے درمیان مذاکرات کا دوسرااور اہم راؤنڈ ہوگا pic.twitter.com/9vvN8WvfxR
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) October 3, 2026



