اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اسپیکر چیمبر میں ہونے والے مذاکرات اختتام پذیر ہو گئے ہیں جس میں فریقین نے اپنے اپنے مطالبات پیش کرنے کے بعد کل دوبارہ مل بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات اچھے ماحول میں ہوئے اور ہمیں امید ہے کہ کل ہونے والا دوسرا دور بھی اچھا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات درست سمت میں جا رہے ہیں اور امید ہے کہ ان کا نتیجہ اچھا نکلے گا۔
اسپیکر آفس کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور کل دن 2 بجے اسپیکر چیمبر میں ہوگا۔
مذاکرات میں کیا ہوا؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت مذاکرات کے آغاز پر اپوزیشن نے حکومت کو عمران خان کا فی الفور علاج کرانے جبکہ حکومت نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس کے بعد مذکرات میں نماز جمعہ کے لیے وقفہ کیا گیا، پارلیمنٹ کی مسجد میں ادا کی گئی نماز جمعہ کے دوران مذاکرات کی کامیابی کے لیے بھی دعا کی گئی۔
ذرائع کے مطابق وقفے کے بعد مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوا اور فریقین کے درمیان اپنے اپنے مطالبات پر بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد حکومتی وفد اسپیکر چیمبر سے متصل کمرے میں گیا جہاں ارکان نے اپوزیشن کے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے مطالبے پرعلیحدگی میں مشاورت کی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ دوسری جانب اپوزیشن وفد نے بھی علیحدگی میں آپس میں مشاورت کی۔ جس کے بعد حکومت نے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کے لیے 4 اکتوبر کو اناؤنس کیا گیا مارچ ’منسوخ یا ملتوی‘ کرنے سے مشروط کر دیا۔
ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے اپوزیشن رہنماؤں کو بتایا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال ہے اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں ہو رہے ہیں، ان حالات میں ملک ایسے لانگ مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد ایک دوسرے کو تحمل و برداشت سے سننا اور سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
اجلاس میں ہونے والی بات چیت اور لانگ مارچ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اجلاس کی تفصیل راز میں رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے اور ”اس کی پاسداری ہم سب پر فرض ہے (لیکن) میں یہ ضرور کہوں گا کہ اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی ہے۔“
کل 2 بجے دوبارہ مذاکرات ہوں گے، ابھی یہ طے پایا ہے کہ آج کے مذاکرات کی تفصیلات شیئر نہیں کی جائیں گی، اس کی پاسداری ہم سب پر فرض ہے اچھے ماحول میں بات ہوئی، مذاکرات کا مقصد ایک دوسرے کو سننا ہے، طارق فضل چوہدری pic.twitter.com/gAwwItFPEa
— Watan Zeb Khan Yousafzai (@YousafzaiWatan) October 2, 2026
دوسری جانب اسپیکر آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ’اجلاس‘ کے پہلے دور کے دوران حکومتی وفد اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ”ملک کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی“۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ”حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن نے اپنے موقف سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا [اور] مختلف معاملات پر تحمل سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔“
مزید کہا گیا کہ حکومت اور پی پی پی کا اپوزیشن کے ساتھ قومی مسائل کو مذکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
کون کون شریک تھا؟
اسپیکر آفس کے مطابق مذاکرات میں حکومت کی طرف سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری کے علاوہ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان، ارکان قومی اسمبلی نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی شریک تھے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت اور اپوزیشن اراکین کا اجلاس جاری۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کا حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کا انکے آفس آمد پر خیر مقدم۔
میں صرف ثالث کا کردار ادا کر رہا ہوں، اسپیکر سردار ایاز صادق
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مذاکرات کامیابی… pic.twitter.com/TYhrnGOTER
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) October 2, 2026
دوسری جانب اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، ملک عامر ڈوگر سابق اسپیکر اسد قیصر، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور ملک عامر ڈوگر نے کی۔
بحران حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،علامہ ناصرعباس
مذاکرات میں وففے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصرعباس نے کہا کہ مذاکرات کل عالم کا طریقہ ہے، بڑے بڑے بحرانوں اور جنگوں کا حل مذاکرات سے نکالا جاتا ہے لیکن یہ حکومت کی نیت پر منحصر ہے کہ وہ مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امن دینا، معاشی مسائل حل کرنا اور بحرانوں کا خاتمہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ”لہذا یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک بااختیار ہیں، اور اس چیز (بحران) کو ختم کرنے کے لیے ان کی نیت کیا ہے۔“
لانگ مارچ اپنی جگہ پر قائم ہے وہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک حل نا نکل آئے ، حکومت اگر مشکلات سے نکلنا چاہتی ہے تو ان کو بات ماننا ہوگی،
علامہ راجہ ناصر عباس@PTIofficial pic.twitter.com/4QcGMv4t0E
— PTINorth Sindh Official (@PTINorthSindhO) October 2, 2026
مذاکرات کی طوالت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بھی حکومت کی نیت پر ہے کہ وہ کتنے اخلاص سے اور کتنی جلدی ملکی مسائل اور بحرانوں کا حل چاہتی ہے۔
لانگ مارچ کے حوالے سے انہوں نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ”لانگ مارچ تو اٹل ہے، یہ تو ختم نہیں ہو سکتا جب تک کوئی حل نہیں نکلتا۔“
عمران خان ایسے مذاکرات سے رہا نہیں ہونے والے، شیر افضل مروت
پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی خود بھنور میں پھنسی ہوئی ہے، اسے فیس سیونگ چاہیے جو مذاکرات کی شکل میں مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں کلیدی کردار بیرسٹر گوہر اور علامہ راجہ ناصر عباس کا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی ایسے مذاکرات سے ممکن نہیں۔
مارچ نہیں ہونا، فیصلہ پہلے ہو چکا تھا، اعلان آج کریں گے، عمران خان کی رہائی ایسے مذاکرات میں نہیں، میں مارچ اس وقت کروں گا جب کسی کی مداخلت نہیں ہو گا، شیر افضل مروت#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت pic.twitter.com/RaDI3i0OW8
— فیصل عزیز (@faisalaziz313) October 2, 2026
ان کے مطابق جب تک لاکھوں لوگ سڑکوں پر نہیں ہونگے کسی نے عمران خان کی رہائی کے مسئلے پر غور ہی نہیں کرنا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے ایسا مارچ کریں گے جس کی ’ناکامی کا کوئی تصور بھی نہ کرے‘ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ایسا تب کریں گے جب ’کسی کی دخل اندازی نہیں ہوگی‘۔
میں صرف ایک سہولت کارہوں، سردار ایازصادق
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہوں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں، میرا دفتر مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ مذاکرات کے لیے کھلا ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کا مزید کہنا تھا کہ اختلافِ رائے اور مسائل کے حل کا واحد راستہ مذاکرات ہیں، عہدے اور دفاتر عارضی ہوتے ہیں، پارلیمان ہی وہ واحد فورم ہے جہاں مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
مذاکرات سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات بھی ہوئی جس میں ملک کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں حکومت اور اپوزیشن کمیٹیوں کے وفود کی ملاقات کے حوالے سے بھی امور پر تبادلہ خیال ہوا، ملاقات میں تحریک انصاف سے مذاکرات کی حکمت عملی پر بات چیت ہوئی۔
ہمیشہ ہرجگہ انصاف مانگا، بیرسٹر گوہر
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنرراج اورایمرجنسی کسی مسئلے کا حل نہیں، ہم نےہمیشہ ہرجگہ انصاف مانگا ہے، مذاکرات کامیاب ہونےچاہئیں، یہ صرف فوٹوسیشن یا آنےجانے تک محدود نہیں ہونےچاہئیں، مذاکرات کی کامیابی قوم کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل انہوں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ آج وہ ’پورے خلوص‘ سے بغیر کوئی پیشگی شرط رکھے حکومت سے مذاکرات کرنے جارہے ہیں۔ جس دوران ”حکومت کو سننے کے بعد اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔“
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے اور اگر”انصاف ہمارے لیے چھٹی پر نہیں ہے تو ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔”
امید ہے اپوزیشن بات چیت کا موقع نہیں گنوائے گی، طلال چوہدری
اپوزیشن کیساتھ بات چیت کے آغاز سے پہلے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ بات چیت میں ہمیں کبھی جھجھک ہوئی نہ انا آڑے آئی، ن لیگ اورپیپلزپارٹی نے ہمیشہ مسائل مذاکرات سے حل کیے، امید ہے اپوزیشن بات چیت کا موقع نہیں گنوائے گی۔
فیصلہ عدالتوں نے ہی کرنا ہے، رانا ثناءاللہ
مذاکرات سے قبل وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عدالتوں کے معاملات عدالتوں کے ذریعے ہی حل ہونگے۔سیاسی معاملات ٹیبل پربیٹھ کرحل ہوسکتے ہیں ،بیٹھ کرجوبھی بات کرنا چاہیں وہ کریں۔
ہم سیاسی اصولوں اورقانون کے مطابق جواب دیں گے ، یہ طریقہ نہیں کہ وزیراعظم کوخط لکھ سکتے ہیں مگر مل نہیں سکتے،اس قسم کی سوچ سیاسی رواداری کا نقصان کرتی ہے۔
مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے، طارق فضل چوہدری
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی دعوت وزیراعظم نے خود قائد حزب اختلاف کو دی،حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں۔امید ہے آج ہی کوئی نتیجہ نکل آئے گا۔
بات چیت سے مسائل کا حل ملک اور سیاسی صورتحال کے لیے بہتر ہے،مذاکرات میں کئی موضوعات زیر بحث آئیں گے، ممکنہ حل حکومت کے پاس ہوا تو پیش کریں گے۔
طارق فضل چوہدری نے مشورہ دیا کہ اپوزیشن کو سیاسی رویہ اختیار کرنا پڑے گا، اسلام آباد پر یلغار اور چڑھائی سے اجتناب کرنا ہوگا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر کو قابو کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اور خیبرپختونخوا کی صورتحال
پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور اپنے سیاسی مطالبات کے حق میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کررکھا ہے۔ مارچ ابتدا میں 27 ستمبر کو ہونا تھا تاہم پی ٹی آئی نے اسے مؤخر کرکے 4 اکتوبر 2026 کو کرنے کا اعلان کیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی اور پارٹی کے دیگر سیاسی و آئینی مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنا ہے، جبکہ پارٹی قیادت نے مارچ کو پرامن رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد کی جانب مارچ کے انتظامات تشویش کا باعث ہیں، حکومت نے دارالحکومت میں سکیورٹی بڑھانے اور اہم راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال بھی اس سیاسی کشیدگی کا اہم پس منظر ہے۔ حالیہ عرصے میں صوبے میں دہشتگردی کے واقعات اور پاک افغان سرحد سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی اور وسائل کے استعمال پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔
لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کا ذکر بھی سامنے آیا۔ حکومتی نمائندوں نے کہا ہے کہ آئینی طریقہ کار کے تحت اس آپشن پر غور کیا جاسکتا ہے، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس امکان کی مخالفت کی ہے۔



