امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے لیے آنے والے شخص کو وائٹ ہاؤس کے قریب سے گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کی گاڑی سے ایک رائفل، دو پستول اور درجنوں گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔
ملزم کی گرفتاری ایسے واقعات کی تازہ ترین کڑی ہے، جو خفیہ سروس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسے افراد کے خلاف کی ہیں، جنہوں نے گزشتہ سال ٹرمپ کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کی یا ان کے خاندان کے افراد کی جان کو دھمکی دی۔
امریکی چینل این بی سی نے امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے حوالے سے بتایا کہ گرفتار شخص وینزویلا کا شہری ہے جو 2024 میں غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہوا تھا، ملزم چوری شدہ گاڑی میں وائٹ ہاؤس کے قریب موجود تھا۔
ملزم کی شناخت رونی یورڈریکس گوانیپا کرینوس کے نام سے ہوئی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے جب اس سے پوچھا کہ کیا اس کے پاس کوئی ہتھیار ہے تو ملزم نے سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا اور انگلی سے پستول چلانے کا اشارہ بھی کیا۔
امریکی حکام کے مطابق ملزم نے بتایا کہ اسے ذہن میں آوازیں سنائی دے رہی تھیں جو اسے واشنگٹن آ کر صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کا کہہ رہی تھیں۔

حکام کے مطابق ملزم کو اسلحہ رکھنے کی متعدد دفعات کے علاوہ گاڑی کی چوری اور غیر قانونی استعمال کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ گاڑی سے ایک رائفل، دو ہینڈ گنز اور درجنوں گولیاں برآمد ہوئیں۔
امریکی سیکریٹ سروس کے ڈائریکٹر شان کرن نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ وائٹ ہاؤس کے اطراف سکیورٹی خطرات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
خیال رہے گزشتہ دو برس کے دوران ٹرمپ کم از کم 3 قاتلانہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ 13 جولائی 2024 کو ریاست پنسلوینیا کے قصبے بٹلر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران ان پر براہِ راست فائرنگ کی گئی۔ اس وقت ٹرمپ کے دائیں کان میں معمولی زخم آیا تھا۔



