خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی جانب سے 105 سول ججوں کی تقرری کے لیے منعقدہ امتحان میں امیدواروں کی ناکامی کی شرح انتہائی زیادہ رہی، 1024 امیدواروں میں سے صرف 3 کامیاب ہو سکے۔
خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے مطابق سول ججوں کی بھرتی کے لیے مجموعی طور پر 3097 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن میں سے 1024 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے۔
پبلک سروس کمیشن کے مطابق انگریزی (جنرل) اور انگریزی (مضمون) کے پرچوں میں تقریباً 85 فیصد امیدوار ناکام رہے، جبکہ جنرل نالج کے پرچے میں 68 فیصد امیدوار کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
نتائج کے مطابق سول لاء ون کے پرچے میں 41 فیصد جبکہ سول لاء ٹو کے پرچے میں 46 فیصد امیدوار ناکام ہوئے۔
کامیاب امیدواروں کو دستاویزات 15 دن کے اندر جمع کرانے کی ہدایت
کمیشن نے کامیاب ہونے والے تینوں امیدواروں کو تصدیق شدہ مطلوبہ دستاویزات 15 دن کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی امیدوار نمبروں کی دوبارہ گنتی کرانا چاپتا ہو تو وہ کمیشن کو درخواست جمع کرا سکتا ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا بار کونسل نے سول ججوں کے امتحانی نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نتائج کا نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ججوں کی بھرتی کے طریقہ کار اور امتحانی معیار پر سوالات
بار کونسل کے مطابق نتائج نے ججوں کی بھرتی کے طریقہ کار اور امتحانی معیار پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ صوبے میں پہلے ہی ججوں کی کمی اور زیرِ التوا مقدمات کی بڑی تعداد موجود ہے۔
خیبر پختونخوا بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ سول ججوں کی آئندہ بھرتی پبلک سروس کمیشن کے بجائے ہائی کورٹ کے ذریعے کی جائے۔
بار کونسل نے چیف جسٹس سے بھی پبلک سروس کمیشن کے نتائج کے نوٹیفکیشن کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری ترامیم کرکے سول ججوں کی بھرتی کا اختیار بھی ہائی کورٹ کو دیا جانا چاہیے۔


