لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی تین بہنوں کی رہائی سے متعلق درخواست پر پنجاب کے ہوم سیکریٹری اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عبہرگل خان نے جمعرات کو کیس کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ 28 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہوں اور اپنی رپورٹس بھی ساتھ لائیں۔
یہ درخواست عمران خان کی بہن علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو عدالت میں پیش کرنے اوررہا کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی تینوں بہنیں کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں حالانکہ ان کی نظر بندی کے احکامات کی مدت ختم ہوچکی ہے۔
وکیل کے مطابق تینوں خواتین کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کے تحت 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا تھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نظر بندی کے احکامات 19 اور 20 اکتوبر کو اپنی مدت پوری کرچکے ہیں، اس کے باوجود خواتین کو رہا نہیں کیا گیا۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد حراست جاری رکھنا غیرقانونی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس عبہرگل خان نے درخواست گزارکے وکیل سے استفسار کیا کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو درخواست میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا حالانکہ نظربندی کے احکامات اسی افسر نے جاری کیے تھے۔
وکیل رانا مدثر عمر نے جواب دیا کہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن اپنی مدت پوری کرچکا ہے، اسی لیے ڈپٹی کمشنر کو فریق نہیں بنایا گیا۔
اس موقع پر عظمیٰ خان کے شوہر احد خان روسٹرم پرآئے اورعدالت سے استدعا کی کہ ڈپٹی کمشنر کو بھی طلب کیا جائے۔
جسٹس عبہر گل خان نے کہا کہ چونکہ ڈپٹی کمشنرکو درخواست میں فریق نہیں بنایا گیا، اس لیے موجودہ کارروائی میں انہیں طلب نہیں کیا جاسکتا، عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پراحد خان کو مطمئن کریں۔
عدالت نے سماعت 28 اکتوبرتک ملتوی کرتے ہوئے پنجاب کے ہوم سیکریٹری اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے اوررپورٹس جمع کرانے کا حکم دیا۔
درخواست گزارشاہ ریزخان نے بدھ کو دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ نظر بندی کے احکامات کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی تینوں خواتین کو حراست میں رکھنا غیر قانونی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو تینوں خواتین کو عدالت میں پیش کرنے اور ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔
درخواست کے مطابق تینوں خواتین کسی بھی فوجداری مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں اور ان کی نظر بندی کا تعلق اپنے بھائی عمران خان کی رہائی کے لیے کوششوں سے ہے، جو اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں۔
درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ احتیاطی نظر بندی کو عام فوجداری قانون کے تحت کارروائی کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا۔
درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 10 اور ایم پی او آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت حاصل قانونی تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے نظر بندی کے احکامات کو آئینی بنیادوں پر چیلنج کیا اور انہیں غیر مؤثر قرار دینے کی استدعا کی۔
واضح رہے کہ علیمہ خان کو 20 ستمبر جبکہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 21 ستمبر کوحراست میں لیا گیا تھا یہ گرفتاریاں پی ٹی آئی کی جانب سے گزشتہ ماہ اسلام آباد کی طرف طے شدہ مگر بعد ازاں منسوخ کیے گئے مارچ سے قبل عمل میں آئی تھیں، لاہور ہائیکورٹ اس سے قبل بھی تینوں خواتین کی نظر بندی اور جیل میں انہیں بنیادی ضروریات فراہم کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرچکی ہے۔



