خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں دہشت گردوں کے حملے میں ڈی ایس پی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) عمران الدین سمیت 4 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔
پولیس کے مطابق ضلع کرک کے علاقے چارپرہ میں دہشتگردوں نے گھات لگا کر حملہ کیا۔ ڈی ایس پی عمران الدین کے علاوہ تھانہ لتمبر کے ایس ایچ او فضل آوان، بی ڈی یو اہلکار امجد اور کاظم حملے میں شہید ہوئے۔
ڈی ایس پی سی ڈی ٹی عمران الدین وہ بہادر پولیس افسر تھے جنہوں نے کوہاٹ دھماکے کے بعد سرچ آپریشن میں بھر پور حصہ لیا تھا۔ اور وہ دھمکیوں کے باوجود پیچھے نہیں ہٹے۔
KP Police has lost an exceptionally honest, dutiful, and courageous officer. Shaheed DSP CTD Imranuddin was a dedicated officer who always fulfilled his responsibilities with a deep sense of duty. 🇵🇰💔
Following the recent Kohat blast, he played an important role in the clearance operation. He travelled directly from Karak to Kohat to take part in the operation.
Shaheed Imranuddin’s services will always be remembered. May Allah forgive him, elevate his ranks in Jannah, and grant his family patience and strength. Ameen. 😢
— Powindah 💀 (@intel_view) October 22, 2026
رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں نے پولیس پارٹی پر حملہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کیا۔ پولیس آپریشن کے دوران 2 دہشتگرد بھی مارے گئے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پولیس اہلکاروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین سمیت چار اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ جبکہ پولیس افسران اور جوانوں نے امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم پولیس شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔


