سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد برینٹ خام تیل پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں نے خطے سے توانائی کی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھا دیئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.42 ڈالر، یعنی 2.2 فیصد اضافے کے بعد 111.24 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 1.14 ڈالر، یعنی 1.2 فیصد بڑھ کر 98.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف کارروائی کے اشارے دے دیئے۔ جو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے سعودی عرب میں امریکی عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے، جبکہ ایران پر ممکنہ نئے حملوں سے متعلق اطلاعات نے توانائی کی عالمی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھا دیئے ہیں۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی اور تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
BREAKING: Brent crude tops $111 after Trump hints at US action against Iran, with Washington ordering staff to leave Saudi Arabia amid reports of renewed strikes. 📈
— HIT.com (@HIT) October 22, 2026
رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل مسلسل تیسرے موقع پر ایک ہفتے کے دوران تکنیکی اعتبار سے حد سے زیادہ خریداری کی سطح میں داخل ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی برینٹ کے 18 مئی کے بعد بلند ترین سطح پر کاروبار کے اختتام کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد عالمی توانائی کی منڈی میں رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔


