بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے آف اسپنر الِس الاسلام کا بولنگ ایکشن ایک بار پھر مشکوک قرار دے دیا گیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ان کے بولنگ ایکشن پر سوال اٹھے ہوں۔ 2019 میں بنگلا دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے دوران بھی ان کا ایکشن مشکوک رپورٹ کیا گیا تھا۔ اس وقت انہوں نے ٹی 20 ڈیبیو پر ہیٹ ٹرک کرکے توجہ حاصل کی تھی،مگر اسی سال الِس الاسلام نے بولنگ ایکشن ٹیسٹ پاس کرلیا تھا۔
گزشتہ سال بی پی ایل کے دوران بھی ان کا بولنگ ایکشن رپورٹ ہوا جس کے بعد انہوں نے بی سی بی کا ایک اور ٹیسٹ پاس کیا تھا۔
الِس الاسلام نے بدھ کو شارجہ میں افغانستان کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا۔ میچ میں بنگلا دیش کو 7 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد میچ آفیشلز نے ان کے بولنگ ایکشن کی قانونی حیثیت پر تحفظات ظاہر کیے۔
آئی سی سی کا مؤقف
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی )کے مطابق افغانستان کے ہاتھوں شکست کے بعد میچ آفیشلز کی رپورٹ میں الِس الاسلام کے بولنگ ایکشن کی قانونی حیثیت سے متعلق خدشات سامنے آئے۔
اب بنگلا دیشی اسپنر کو آئی سی سی سے منظور شدہ ٹیسٹنگ سینٹر میں اپنے بولنگ ایکشن کا آزادانہ جائزہ کروانا ہوگا۔ یہ جانچ آئی سی سی کے غیر قانونی بولنگ ایکشن سے متعلق ضوابط کے تحت کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق، بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے تاحال فیصلہ نہیں کیا کہ الِس الاسلام کو جانچ کے لیے کس مرکز میں بھیجا جائے گا۔
بولنگ ایکشن کے قوانین کیا کہتے ہیں؟
کرکٹ قوانین کے تحت گیند کراتے وقت بولر کو کہنی سیدھی کرنے کی زیادہ سے زیادہ 15 ڈگری تک اجازت ہوتی ہے۔ الِس الاسلام کو اپنے بولنگ ایکشن کے ٹیسٹ کے نتائج سامنے آنے تک میچز میں بولنگ جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
الِس الاسلام اپنی ایسی پراسرار گیندوں کے لیے مشہور ہیں جو دونوں جانب اسپن ہوتی ہیں۔ وہ بعض گیندیں ہاتھ کے اگلے حصے سے کراتے ہیں، جس نے انہیں ایک کامیاب اسپنر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے 59 ٹی 20 میچز میں 6.38 کے اکانومی ریٹ سے 60 وکٹیں حاصل کی ہیں، جبکہ 20 لسٹ اے میچز میں 18.40 کی اوسط سے 35 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ تاہم انہوں نے اب تک فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلی۔
انہوں نے رواں ماہ سری لنکا کے خلاف ایشین گیمز کے کانسی کے تمغے کے میچ میں ٹی 20 انٹرنیشنل ڈیبیو بھی کیا تھا۔ اب ان کے بولنگ ایکشن کی آزادانہ جانچ کے نتائج ان کے کیریئر کے لیے اہم ہوں گے۔



