نئی دہلی: بھارتی ریاست پنجاب کی لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) میں مبینہ جنسی زیادتی اور خودکشی کے واقعے پر احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد کلاسز معطل کردی گئیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب کے علاقے پھگواڑہ کی ایل پی یو میں مبینہ جنسی زیادتی کی افواہ کے بعد احتجاج شروع ہوا، جو بعد ازاں پرتشدد صورتحال اختیار کرگیا۔ صورتحال کے پیش نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے تدریسی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو کیمپس میں مبینہ طور پر ایک غیرمتعلقہ شخص نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں طالبہ نے خودکشی کر لی۔
یونیورسٹی کے طلبا کی جانب سے مبینہ زیادتی کے بعد خودکشی کے واقعے پر ہنگامہ آرائی اور پولیس سے جھڑپوں کے بعد انتظامیہ کی جانب سے تمام کلاسز معطل اور مڈ ٹرم امتحانات ملتوی کر دیئے گئے۔ مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں سے جھڑپ کے دوران یونیورسٹی کی کھڑکیوں کے شیشے توڑے اور کمپلیکس میں بعض اشیا کو آگ بھی لگائی گئی۔
یونیورسٹی کی کلاسز 10 روز کے لیے معطل
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق واقعے کے بعد مڈ ٹرم امتحانات اور کلاسز 10 روز کے لیے معطل کردی گئی ہیں۔ جبکہ طلبا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس دوران اپنے آبائی علاقوں کو جا سکتے ہیں، جبکہ کیمپس میں رہنے والے طلبا کو ہاسٹل یا اپنی رہائش گاہوں تک محدود رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے۔
انتظامیہ نے طلبا کو احتجاج یا کسی بھی قسم کی بدامنی میں ملوث نہ ہونے کی ہدایت بھی کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کیمپس میں سکیورٹی کے لیے 2 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ مظاہرین نے اتوار کی صبح جالندھر اور پھگواڑہ کے درمیان قومی شاہراہ بھی بلاک کردی تھی، جس سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ مشتعل مظاہرین کی جانب سے گاڑیوں کو بھی آگ لگائی گئی تاہم پولیس کے مطابق پیر کو صورتحال پر قابو پالیا گیا اور شاہراہ پر ٹریفک بحال کردی گئی تھی۔
#WATCH | Phagwara, Punjab: Visuals from outside Lovely Professional University, where the protest by students turned violent.
Students clashed with police and set vehicles on fire. https://t.co/ErVJk1Dryj pic.twitter.com/kTU76p703b
— ANI (@ANI) September 27, 2026
مبینہ زیادتی کی تصدیق نہیں ہوسکی
پولیس نے واضح کیا ہے کہ تاحال اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ یونیورسٹی کیمپس میں طالبہ کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔ پولیس نے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو یونیورسٹی کا دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ پنجاب اسٹیٹ ویمن کمیشن نے بھی مبینہ زیادتی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔
یونیورسٹی کا الزامات سے انکار
ایل پی یو انتظامیہ نے کیمپس میں زیادتی کے واقعے کی تردید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کو ’’جھوٹی، بے بنیاد اور من گھڑت افواہیں‘‘ قرار دیا ہے۔
یونیورسٹی نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں مبینہ طور پر اس کمرے میں رہنے والی تین طالبات نے زیادتی کے واقعے کی تردید کی اور پولیس سے بار بار کمرے میں آنے سے گریز کرنے کی درخواست کی۔
The false narrative ends here. No speculation. No hearsay. Hear the truth directly from the students who were there.
This video is published with the express consent of the students featured. pic.twitter.com/ffoXxL3sXL
— Lovely Professional University – LPU (@lpuuniversity) September 27, 2026
تاہم پیر کو بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہی طالبات کی ایک دوسری ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ کہتی دکھائی دیتی ہیں کہ انہیں بیان دینے کے لیے ہدایات دی گئی تھیں اور ان کی ویڈیو کلپس کو ایڈٹ کرکے ان کی اجازت کے بغیر استعمال کیا گیا۔
پولیس نے طلبا کی شکایت پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ جبکہ تحقیقات کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، فورینزک شواہد اور کال ریکارڈز کا جائزہ لیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق ایک طالبہ کی تقریباً 2 ہفتے قبل ہونے والی خودکشی سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں اور اس کا موبائل فون فورینزک معائنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔



