لاہور: ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے بیرون شہر سے تربیت یافتہ افراد کو لاہور لا کر 9 مئی جیسے واقعات دہرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے امین نامی شخص کو گرفتار کرکے اس کے موبائل فون سے اہم آڈیو شواہد حاصل کرلیے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم رکھی جائے گی اور کسی کو بھی ہنگامہ آرائی، تشدد یا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے مختلف کارروائیوں کے دوران 26 ستمبر کو امین نامی شخص کو گرفتار کیا، جس کے موبائل فون کے معائنے اور اس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔
فیصل کامران نے انکشاف کیا کہ گرفتار شخص کے موبائل فون سے ایک آڈیو برآمد ہوئی، جس میں فاطمہ نامی خاتون 20 سے 30 افراد کو طلب کرنے کی بات کر رہی ہیں۔ یہ عام سیاسی کارکن نہیں بلکہ احتجاج کی آڑ میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے لیے استعمال کیے جانے والے افراد تھے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے دعویٰ کیا کہ پرامن احتجاج کا دعویٰ کرنے والوں کی جانب سے بیرون شہر سے افراد کو لاہور لانے اور انہیں باقاعدہ تربیت دے کر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا تاکہ شہر میں 9 مئی جیسے پرتشدد واقعات دہرائے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر احتجاج کو پرامن قرار دینے کے متعدد بیانات سامنے آ رہے ہیں، تاہم پولیس کو موصول ہونے والی آڈیو اور دیگر شواہد ایک مختلف صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ لاہور پولیس نے پرتشدد مظاہروں اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے ایک بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے۔ پرامن احتجاج کی آڑ میں جلاؤ گھیراؤ اور پتھراؤ کے مختلف مقدمات میں شواہد تیزی سے اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے لبرٹی چوک میں ہونے والے حالیہ پتھراؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ شہریوں کی گاڑیوں اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ ان واقعات میں ملوث افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ نیٹ ورک توقع سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ لبرٹی چوک واقعے میں ایک خاتون سمیت مزید کئی افراد کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں اور ان شواہد کی بنیاد پر آپریشن اور تصدیق کا عمل جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شواہد کی روشنی میں مزید اہم گرفتاریاں متوقع ہیں، جبکہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کے بعد مزید حقائق اور شواہد عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
فیصل کامران کے مطابق زیر حراست ملزمان سے تفتیش کے دوران مزید اہم معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔ گزشتہ مظاہروں میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، گاڑیاں جلانے اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے واضح شواہد موجود ہیں اور ان کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقدمات کا اندراج اور فرانزک تحقیقات
ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید کہا کہ مقدمہ نمبر 1769 میں دفعہ 353، دفعہ 124 اے اور دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں، جبکہ مقدمے میں مجرمانہ سازش کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے تاکہ مبینہ منصوبہ بندی میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو حاصل ہونے والی اہم آڈیو کا پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے باقاعدہ فرانزک تجزیہ کرایا جائے گا۔ جبکہ فرانزک تجزیئے کے ذریعے آڈیو کی اصل حیثیت اور اس میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ سے متعلق جانچ کی جائے گی۔
پیسے، تربیت اور رہائی کے دعوؤں کی تحقیقات
ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ تفتیش کے دوران یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ مبینہ شرپسند عناصر کو پیسے اور تربیت فراہم کی گئی، جبکہ گرفتاری کی صورت میں انہیں چھڑانے کے انتظامات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پیسے، تربیت اور گرفتاری کے بعد رہائی سے متعلق دعوؤں کی باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر مبینہ نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جائے گا اور ملوث عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی تربیت کہاں ہوئی؟ تحقیقات کا دائرہ وسیع
فیصل کامران نے کہا کہ پولیس یہ بھی معلوم کر رہی ہے کہ مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کو کہاں اور کس مقام پر تربیت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک اور اہم گرفتاری جلد متوقع ہے۔
ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کا عزم
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی اور قانونی حق ہے، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے ماضی میں کیے جانے والے احتجاج پرامن نہیں رہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون شکنی، تشدد، جلاؤ گھیراؤ، پتھراؤ یا کسی بھی سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
فیصل کامران کا کہنا تھا کہ ریاست کی رٹ برقرار رکھنا پولیس کا بنیادی فرض ہے اور لاہور میں کسی کو بھی 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد سامنے آنے کے بعد قانونی کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔




