مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے مشورہ دیا ہے کہ حکومت اور احتجاج کرنے والے انا اور ضد سے بالاتر ہو کر بات چیت کریں، مسائل حل کرنے کی نیت ہو تو راستہ ضرور نکلتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں سعد رفیق کا کہنا تھا کہ کوئی فاتح نہیں ہو گا، سب ہار رہے ہیں، ریاست پہل کرے، جانی ومالی نقصانات سے بچا جائے۔
سعد رفیق کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مارچ اور احتجاج مکمل طور پر پرامن ہو گا جبکہ حکومتی رہنماؤں کی جانب سے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران امن و امان کی صورتحال پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سعد رفیق نے مزید کہا کہ ایک دوسرے کی عزت نفس مجروح کرنا کم ظرفی ہے، مہنگائی، بےروزگاری، ناانصافی اور دہشتگردی سے پاکستان جھلس رہا ہے، عام آدمی پس چکا، اسے مباحثوں اور الزامات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ عام پاکستانی کی پکار سنی جائے۔
آواز ِ دروں —•-—
ایک دوسرے سے بات چیت کریں ،گفت و شنید جاری رکھیں ، مسائل حل کرنے کی نیت ھو تو راستہ ضرور نکلتا ھے
حکومتیں اور احتجاج کرنیوالے اناؤں ، ضدوں اور دھڑے بندیوں سے اوپر اٹھیں ،
یاد رھے آپ میں سے کوئ فاتح نہیں ھو گا کیونکہ سب ھار رھے بیں، پہل ھمیشہ ریاست کرتی ھے ،پہل کی جاۓ ۔!
جانی و مالی نقصانات سے بچا جاۓ ، ایک دوسرے کی عزت ِ نفس کو تار تار کرنا کم ظرفی ھے ، کوئ فخریہ کام نہیں
مہنگائ ، بیروزگاری ، ناانصافی اور دھشت گردی کی آگ میں جھُلسا ھوا پاکستان کراہ رھا ھے ، پُکار رھا ھے ، اسکی پُکار سنی جاۓ
عام آدمی پِس چُکا ھے ، اسے آپکے مباحثوں ، ملاکھڑوں ، الزامات ، دھینگا مشتی اور خدمات کا ڈھنڈورا پیٹنے سے کوئ دلچسپی نہیں ، جینا تقریباً ناممکن ھو چکا ،
بروقت علاج نہ کیا جاۓ تو رِ ستے ھوۓ زخم ناسور بن جاتے ھیں ، پھر ساری قوم دھائیوں تک اسکی قیمت ادا کرتی رہتی ھے
تاریخ لکھی جا رھی ھے ، اسے قید کیا جاسکتا ھے نہ روکا جاسکتا ھے ۔۔۔
لاعلاج زخم چھوڑ کر جانیوالے ھمیشہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے رھتے ھیںسول سوسائىٹی ، اھل ِ دل اور اھل ِ درد بیدار ھوں ،
( قومی بیداری اور اذان ِحق )کا تسلسل وقت کی ضرورت ھے ،
جو جہاں بھی ھے ، اپنی آواز بلند کرے ۔۔۔!!!— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) September 27, 2026
ان کا کہنا تھا کہ بروقت علاج نہ کیا جائے تو رستے زخم ناسور بن جاتے ہیں، پھر ساری قوم دہائیوں تک اس کی قیمت ادا کرتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ لکھی جا رہی ہے، اسے قید کیا جا سکتا ہے نہ روکا جا سکتا ہے، لاعلاج زخم چھوڑ کر جانے والے ہمیشہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے رہتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سول سوسائٹی اور اہل درد بیدارہوں، قومی بیداری وقت کی ضرورت ہے۔ جو جہاں بھی ہے، اپنی آواز بلند کرے۔
احتجاج موخر کرنا سیاسی حکمت عملی ہے، پی ٹی آئی
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کا لانگ مارچ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو احتجاج کا اعلان کر دیا ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسے سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
دوسری جانب حکومت نے لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کی طرف آنے والی اہم شاہراہوں، موٹرویز اور بعض داخلی راستوں پر سکیورٹی اقدامات کیے ہیں، جبکہ اسلام آباد میں مختلف مقامات پر کنٹینرز بھی رکھے گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سڑکیں بند کرنے یا امن و امان متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔



