سپریم کورٹ نے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس ریکروٹمنٹ رولز 2014 کی بحالی کا حکم جاری کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبونل کا 17 اکتوبر 2022 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس عائشہ اے ملک کے تحریری فیصلے کے مطابق سروس ٹریبونل کو پالیسی امور اور ریکروٹمنٹ رولز کاؤنٹر یا ختم کرنے کا اختیار نہیں تھا، ٹریبونل کو اپنے دائرہ اختیار کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے تھا، ٹریبونل خود کو ایگزیکٹو کے مقام پر فائز نہیں کر سکتا اور نہ ہی قواعد ازسرنو بنانے کی ہدایت دے سکتا ہے۔
کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کے ملازمین کی بھرتی اور ترقی کے طریقہ کار سے متعلق 2014 کے قواعد کو ایک سرکاری ملازم نے فیڈرل سروس ٹریبونل میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ قواعد کے تحت انہیں مطلوبہ ترقی کا راستہ نہیں دیا جا رہا۔ جس پر ٹریبونل نے 17 اکتوبر 2022 کو 2014 کے بھرتی قواعد کالعدم قرار دے کر انہیں دوبارہ مرتب کرنے کی ہدایت کی تھی۔
عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملازم کو یکم جنوری 2021 کو جونیئر آڈیٹر سے سینئر آڈیٹر کے عہدے پر ترقی مل چکی تھی، ملازم نے 2014 کے قواعد کے تحت ترقی حاصل کی اور بعد میں انہی قواعد کو چیلنج کیا۔
’جونیئر آڈیٹر سے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر کے عہدے پر براہ راست ترقی قانونی حق نہیں‘
عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق ملازم کو یکم جنوری 2021 کو جونیئر آڈیٹر سے سینئر آڈیٹر کے عہدے پر ترقی مل چکی تھی، ملازم نے 2014 کے قواعد کے تحت ترقی حاصل کی اور بعد میں انہی قواعد کو چیلنج کیا، جونیئر آڈیٹر سے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر کے عہدے پر براہ راست ترقی قانونی حق نہیں۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ حکومت کو انتظامی ضروریات کے مطابق سروس اسٹرکچر اور بھرتی کے قواعد میں ترمیم کا مکمل اختیار ہے، جونیئر آڈیٹر سے سینئر آڈیٹر (BS-16) کی ترقی کا کوٹہ 10 فیصد سے بڑھا کر مئی 2019 میں 50 فیصد کیا جا چکا ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 2017، 2019 اور 2021 میں انہی رولز میں ترمیم کی منظوری دی، بعد کی منظوریوں اور رولز کے تسلسل سے عملی نفاذ سے 2014 کے قواعد کی قانونی حیثیت برقرار رہتی ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت سروس ٹریبونل کا دائرہ اختیار ملازمین کی ملازمتی شرائط و ضوابط تک محدود ہے، قواعد سے ملازم کے بنیادی یا قانونی حقوق متاثر نہ ہوں تو ٹریبونل کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ سروس ٹریبونل نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ابتدائی منظوری نہ ہونے کی بنیاد پر رولز کالعدم قرار دیے تھے۔



