پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو مارچ ختم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن کے لیے سب کا مل کر کام کرنا ضروری ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ اس وقت دہشتگردی کا شکار ہے، روزانہ لاشیں اٹھائی جارہی ہیں، اور ایسے حالات میں اسلام آباد پر چڑھائی مناسب نہیں۔
انہوں نے سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ مارچ ختم کر دیں، کیونکہ خیبرپختونخوا کسی احتجاج یا مارچ کا متحمل نہیں ہوسکتا، اور اسلام آباد چڑھائی کا نتیجہ صفر ہوگا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران کئی مرتبہ صوبے میں گورنر راج لگانے کی بات ہوئی، مارچ کی تاریخ بھی دوبارہ تبدیل ہوگی، اور یہ تاریخ پر تاریخ والا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت خود ساختہ روپوشی اختیار کر کے گرفتاری دے رہی ہے، جبکہ امن و امان کی صورتحال وفاق اور صوبے دونوں کی ذمہ داری ہے۔
صوبے کے مفاد کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا، فیصل کریم کنڈی
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبے کے مفاد کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا، اور تمام سیاسی جماعتوں کو قیام امن کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ سب مل بیٹھ کر کام کریں گے تو صوبے میں امن قائم ہوسکتا ہے، اور اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں سب کے سامنے ہیں، فوج، شہریوں اور سکیورٹی اداروں پر حملے ہوتے ہیں تو قرارداد نہیں آتی۔ جبکہ افغانستان دہشتگردوں کی سہولت کاری کررہا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے مفاد کے لیے وزیراعظم سے ملاقات کر کے انہیں پشاور آنے کی دعوت دی ہے اور وزیراعظم سے امن و امان سے متعلق اجلاس پشاور میں بلانے کا بھی کہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی کا استعفیٰ آیا تو اسے منظور کرلوں گا۔ صوبے کے امن اور خوشحالی کے لیے بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں، جبکہ صوبے کے مفاد میں احتجاج موخر کیا جانا چاہیے۔



