ممبئی: بھارت میں ووٹر فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا، نوجوانوں کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے دی۔
رائٹرز کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت ڈپکے نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر نے 48 گھنٹوں میں استعفیٰ نہ دیا تو ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ پارٹی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے تک پیچھے نہیں ہٹے گی۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے رپورٹ کیا کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران بھارت کے دو الیکشن کمشنرز، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے سامنے کم از کم 14 مرتبہ سوالات یا تحفظات اٹھائے، رپورٹ کے مطابق ان میں زیادہ تر اعتراضات ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل سے متعلق تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے مزید مطالبات سامنے آ گئے
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ مزید تین مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔
ابھیجیت ڈپکے کے مطابق ان کا پہلا مطالبہ گیانیش کمار کے خلاف فوری طور پر فوجداری کارروائی شروع کرنا اور یہ معلوم کرنا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر احکامات کس کی جانب سے دیے گئے۔
دوسرے مطالبے میں انہوں نے آئندہ ہونے والے تمام انتخابات روکنے، اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کا عمل منجمد کرنے اور جنوری 2025 کی ووٹر فہرست بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے SIR سے متعلق پورے فیصلہ سازی کے عمل کی آزادانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو SIR سے متعلق تمام فائلیں فوری طور پر اپنی تحویل میں لے لینی چاہئیں تاکہ کوئی ریکارڈ ضائع، تبدیل یا غائب نہ ہو سکے۔
ابھیجیت ڈپکے کے تیسرے مطالبے میں 2023 کے اس قانون کو منسوخ کرنا شامل ہے جس کے تحت بھارت کے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کی تقرری کا طریقہ کار وضع کیا گیا، جبکہ ان کی جگہ ایسا نیا قانون بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس پر عوام کا اعتماد بحال ہو اور جس کی تیاری میں سول سوسائٹی کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔
Gyanesh Kumar must go!
Demand 1: Initiation of criminal proceedings against Gyanesh immediately, and an answer to the question: Who gave him the orders?
Demand 2: Put all upcoming elections on hold. Freeze the SIR and restore the January 2025 voter list. Set up an independent…
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) September 24, 2026
رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنرز نے بعض فیصلوں، نئے ووٹرز کے اندراج، ووٹرز کے نام حذف کرنے اور انتخابی فہرستوں کے ڈیجیٹل نظام سے متعلق معاملات پر اعتراضات اٹھائے، انڈین ایکسپریس کے مطابق دونوں کمشنرز نے بعض اقدامات کو ’غیر مجاز‘ اور ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے بھی تحفظات ریکارڈ کرائے۔
اپوزیشن کا الیکشن کمیشن پر اعتراض
بھارت کی اپوزیشن جماعتیں بھی طویل عرصے سے الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں، اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں سے لاکھوں نام مبینہ طور پر حذف کیے گئے جبکہ بعض نئے ووٹرز کا اندراج مناسب تصدیق کے بغیر کیا گیا، جس سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچنے کا امکان پیدا ہوا۔
رائٹرز کے مطابق کانگریس نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ جمعہ کو ملک بھر میں ریاستی الیکشن دفاتر کی جانب احتجاجی مارچ کرے گی، پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی گرفتاری، عہدے سے برطرفی اور ان کے دور میں کیے گئے فیصلوں اور ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے آزادانہ جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف
بھارتی الیکشن کمیشن نے اندرونی اختلافات کی رپورٹ پر کہا ہے کہ کسی بھی ادارے میں مختلف آرا اور مشاہدات سامنے آنا معمول کی بات ہے اور حتمی فیصلہ ہونے سے پہلے اختلافی رائے فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہوتی ہے، کمیشن نے اپنے تمام اقدامات کو قانونی قرار دیا ہے۔
بھارتی الیکشن کمیشن تین ارکان پر مشتمل ہے، جن میں چیف الیکشن کمشنر اور دو دیگر الیکشن کمشنرز شامل ہیں۔ گیانیش کمار تینوں میں سب سے سینئر ہونے کی وجہ سے چیف الیکشن کمشنر ہیں، انڈین ایکسپریس کے مطابق قانون میں کمیشن کے معاملات حتی الامکان اتفاقِ رائے سے طے کرنے اور اختلاف کی صورت میں اکثریتی رائے سے فیصلہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
دوسری جانب بی جے پی نے الیکشن کمیشن کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ بی جے پی ترجمان سمبت پاترا کا کہنا ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن سمیت آئینی ادارے جمہوری طریقے سے کام کر رہے ہیں اور اپوزیشن جماعتیں مسلسل انتخابات میں شکست کے باعث الیکشن کمیشن کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔
ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا معاملہ
تنازع کی ایک بڑی وجہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے تحت ووٹر فہرستوں کی نظرثانی ہے، انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جون 2025 میں بہار سے شروع ہونے والا یہ عمل 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک پہنچ چکا ہے اور کروڑوں ووٹر اندراجات اس عمل سے متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دو الیکشن کمشنرز نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ووٹرز کے اندراج و اخراج اور انتخابی فہرستوں کے سافٹ ویئر تک رسائی سمیت متعدد معاملات پر تحفظات ریکارڈ کرائے، ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں کمشنرز نے انتخابی ڈیٹا کے سافٹ ویئر کی سالمیت سے متعلق خدشات پر کابینہ سیکرٹری سے بھی رابطہ کیا تھا۔
اس معاملے پر بھارتی سپریم کورٹ بھی ووٹر فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق بعض معاملات کی سماعت کر رہی ہے، مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کے مطابق SIR کے دوران حذف کیے گئے تقریباً 27 لاکھ ووٹرز میں سے 22 لاکھ سے زائد نے دوبارہ نام شامل کرنے کے لیے اپیلیں دائر کی ہیں۔
یوں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے، الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کی رپورٹ اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے نے بھارت میں انتخابی عمل کی شفافیت اور الیکشن کمیشن کے کردار پر ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔



