آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر 2026 کے لیے درآمدی مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی قیمتوں میں 13 سے 15 فیصد سے زائد تک اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد مختلف گیس کمپنیوں کے لیے نئے نرخ مقرر کردیے گئے ہیں۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے ٹرانسمیشن نظام کے لیے آرایل این جی کی قیمت میں 13.89 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 15.9357 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) مقرر ہوگئی ہے۔
اسی طرح ایس این جی پی ایل کے ڈسٹری بیوشن نظام کے لیے آر ایل این جی کی قیمت میں 14.01 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 17.3259 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے ٹرانسمیشن نظام کے لیے آر ایل این جی کی قیمت میں 15.25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 14.5339 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
ایس ایس جی سی ایل کے ڈسٹری بیوشن نظام کے لیے بھی آر ایل این جی مہنگی کردی گئی ہے۔ اس مد میں قیمت میں 15.27 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 16.3959 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر ہوگئی ہے۔
اوگرا کے مطابق آر ایل این جی کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اکتوبر2026 سے ہوگا، اتھارٹی نے وفاقی حکومت کی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق نئی قیمتوں کا تعین کیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ آر ایل این جی کی قیمتوں کا تعین پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے دو درآمدی کارگوز کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کے لیے آر ایل این جی کے نرخوں میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ آر ایل این جی درآمدی مائع قدرتی گیس ہے، جسے دوبارہ گیس کی شکل میں تبدیل کرکے گیس پائپ لائنوں کے ذریعے صارفین تک پہنچایا جاتا ہے اس کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمتوں اور درآمدی اخراجات سمیت مختلف عوامل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔



