امریکا میں ایک وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 3 بڑے میڈیا اداروں پر پابندی کے خلاف حکم جاری کرتے ہوئے انتظامیہ کو ان کی وائٹ ہاؤس تک رسائی فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے کہا ہے کہ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس سے دور رکھنے کا اقدام بادی النظر میں آئین سے متصادم ہو سکتا ہے۔ جج نے انتظامیہ کو 14 روز تک پابندی نافذ کرنے سے بھی روک دیا ہے۔
ان تینوں میڈیا اداروں پر صدر ٹرمپ کی جانب سے 18 ستمبر کو پابندی عائد کی گئی تھی جس کے خلاف انہوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اداروں کا مؤقف تھا کہ صحافیوں کے پریس پاس منسوخ کرنا امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کے تحفظات کے علاوہ قانونی طریقۂ کار کے تقاضوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔
قومی سلامتی کا مؤقف
ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس تک رسائی دینا انتظامیہ کا استحقاق ہے، اور صدر کو قومی سلامتی کی بنیاد پر میڈیا اداروں کی رسائی محدود کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
تاہم جج کیلی نے اس دلیل پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ میں یہ ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد موجود نہیں کہ پریس پاس منسوخ کرنے سے قومی سلامتی کو تحفظ ملے گا یا صحافیوں کی رسائی بحال ہونے سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگا۔
BREAKING NEWS: I am pleased to announce that the United States of America has entered into an Agreement with The Kingdom of Denmark, and Greenland, that gives the United States permanent control over security, and all other needs, in Greenland, completely addressing ALL of our…
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) September 19, 2026
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ان اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں مسلسل ’’فکشن اور جھوٹ‘‘ شائع یا نشر نہیں کرنا چاہیے۔ وائٹ ہاؤس نے پابندی کی وضاحت میں میڈیا اداروں کی رپورٹنگ اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا تھا۔
صحافیوں کو دفاع کا موقع نہ دینے پر اعتراض
جج کیلی نے سماعت کے دوران بھی اس بات پر توجہ دلائی تھی کہ صحافیوں کے پریس پاس منسوخ کرنے سے پہلے انہیں مناسب نوٹس یا اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
انہوں نے ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے مستقل پریس پاس رکھنے والے صحافیوں کی رسائی ختم کرنے سے پہلے مناسب قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔
تینوں میڈیا اداروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے صحافیوں کے پاس اچانک منسوخ کیے گئے اور انہیں پہلے سے قانونی طور پر مطلوبہ نوٹس یا فیصلے کو چیلنج کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
وزارتِ انصاف کے وکیل نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا کہ انتظامیہ نے منگل کو بھیجے گئے خطوط میں پابندی کی مناسب وضاحت فراہم کی تھی۔ جج نے تاہم اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ خطوط پریس پاس منسوخ کیے جانے اور مقدمہ دائر ہونے کے بعد بھیجے گئے تھے۔
دیگر میڈیا اداروں کی بھی حمایت
اس قانونی تنازع میں دیگر میڈیا اداروں اور آزادیٔ صحافت کی تنظیموں نے بھی سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کی حمایت کی ہے۔
رپورٹرز کمیٹی فار فریڈم آف دی پریس سمیت متعدد میڈیا اداروں نے عدالت میں ایک مشترکہ قانونی درخواست جمع کرائی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کسی میڈیا ادارے کی رپورٹنگ یا ادارتی مؤقف ناپسند ہونے کی بنیاد پر اس کے صحافیوں کے حقوق محدود نہیں کیے جانے چاہییں۔ اس درخواست پر رائٹرز، واشنگٹن پوسٹ اور فاکس نیوز سمیت متعدد اداروں کے دستخط بھی تھے۔
آج کا عدالتی حکم اس مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ جج نے فی الحال وائٹ ہاؤس کو صحافیوں کی رسائی بحال کرنے اور پابندی کے نفاذ کو عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے، جبکہ مقدمے کی قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
