ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھیجا گیا خط ایرانی قیادت کے اعلیٰ سطح اجلاسوں میں زیر بحث آیا ہے، تاہم فی الحال امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی پروگرام طے نہیں کیا گیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دو روز قبل ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو خط لکھا تھا جس کے بارے میں امریکی میڈیا کا دعویٰ تھا کہ خط میں ممکنہ طور پر مذاکرات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ خط کا مقصد صرف طبی سامان کی فراہمی کی اجازت دینے سے متعلق بات چیت کرنا تھا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے الجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی نائب صدر کا خط اعلیٰ سطح کے اجلاس میں زیر بحث آیا ہے، تاہم اس حوالے سے امریکا کے ساتھ براہ راست بات چیت کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
انہوں نے واشنگٹن کی جانب سے بات چیت کی کوشش کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی وفد ثالثوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے دوحہ میں موجود ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میرا معاون مشاورت جاری رکھنے کے لیے قطر میں موجود ہے۔
BREAKING: Iran’s FM Abbas Araghchi tells Al Jazeera Tehran has studied a letter sent by US Vice President JD Vance, calls Washington’s attempt to open dialogue a “positive step.”
🔴 LIVE updates: https://t.co/uyXbCXeySo https://t.co/13UjRw1m1T
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 31, 2026
امریکی نائب صدر کا یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی دی ہے، ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا اور اس حوالے سے جلد کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچے گا۔
واضح رہے کہ رپورٹ میں امریکی حکام اور دیگر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ خط بھیجنے کی ہدایت صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی تھی۔ اور اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطے کی یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ عوامی سطح پر فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن نے خلیجی ممالک کو 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ طور پر مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا بھی کہا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابھی تک حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت لا کر کوئی بڑا اقدام کر سکتے ہیں۔
ایگزیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی حکام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے اس وقت ان کے پاس بہترین موقع ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوں گے اور امریکی پالیسی کے تعین میں انتخابات کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ہو گی۔
گزشتہ ہفتے قطری ثالثوں نے تہران میں 12 گھنٹے سے زائد مذاکرات کیے اور اس دوران وائٹ ہاؤس سے بھی مسلسل رابطے میں رہے۔ ان کوششوں کا مقصد امریکا اور ایران کو دوبارہ براہ راست مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔


