وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں سڑک کے درمیان لگے بجلی کے کھمبوں کی وائرل ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے متعلقہ حکام پر دباؤ ڈالنے کے لیے جان بوجھ کر بجلی کے کھمبے ہٹائے بغیر سڑک کی تعمیر مکمل کی تھی۔
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر حیدرآباد میں ایک سڑک کے بالکل درمیان میں بجلی کے کھمبوں کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس سڑک سے گاڑیوں کو انتہائی خطرناک انداز میں گزرنا پڑرہا ہے، سوشل میڈیا صارفین نے اس معاملے پر حکومت سندھ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔
مراد علی شاہ نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس تنازع پر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں سڑک کی تعمیر کے لیے زمین حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ان کے مطابق چیف سیکرٹری سندھ نے کنٹونمنٹ بورڈ اور حکام سے رابطہ کرکے زمین کی الاٹمنٹ حاصل کی تھی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس کے بعد حکومت سندھ نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) سے رابطہ کیا، اسے کھمبے منتقل کرنے کے لیے رقم بھی فراہم کی اور کام مکمل کرنے کی ہدایت کی لیکن کمپنی نے کھمبے منتقل نہیں کیے۔
مراد علی شاہ کے بقول اس صورت حال میں حکومت نے فیصلہ کیا کہ پہلے سڑک تعمیر کی جائے تاکہ عوامی توجہ حاصل ہونے سے متعلقہ حکام پر کھمبے ہٹانے کے لیے دباؤ بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ ”ہم نے سوچا کہ پہلے سڑک تعمیر کرلی جائے تاکہ ان پر دباؤ آئے۔ یہ سب ایک بڑا منصوبہ تھا۔“
Sindh CM @MuradAliShahPPP thanked media and clarified that building the Hyderabad road without removing electricity poles was part of a grand plan to pressure HESCO, which failed to remove them despite payment. Following social media criticism, 25 poles were removed in one day. https://t.co/nLBFX9o2hN
— Sindh Chief Minister House (@SindhCMHouse) October 31, 2026
وزیراعلیٰ سندھ نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی توجہ کے باعث کھمبے ہٹانے کا عمل تیز ہوا ہے۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ایک ہی روز میں 100 میں سے 25 بجلی کے کھمبے ہٹا دیے گئے ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ”میڈیا کا بہت شکریہ، سوشل میڈیا کا بھی بہت شکریہ کہ آپ نے ہماری مدد کی۔ وفاقی ادارے ہماری بات نہیں سنتے، لیکن میڈیا کی بات ضرور سنتے ہیں۔“
وزیراعلیٰ کے مطابق زیر تعمیر سڑک مقامی رہائشیوں میں پہلے ہی مقبول ہوچکی ہے کیونکہ اس کے ذریعے دو مقامات کے درمیان سفر کا فاصلہ کم ہوتا ہے اور تقریباً 15 منٹ کی بچت ہوتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ باقی کھمبے بھی جلد ہٹا دیے جائیں گے اور سڑک مکمل طور پر قابل استعمال ہوجائے گی۔
مراد علی شاہ نے میڈیا سے یہ بھی کہا کہ وہ دیگر سرکاری اداروں سے متعلق اس نوعیت کے مسائل بھی اجاگر کرے تاکہ حکومت انہیں حل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں پر دباؤ ڈال سکے۔
واضح رہے کہ یہ سڑک حیدرآباد میں عالم دار چوک سے پرانے نیشنل ہائی وے کے قریب قاسم چوک تک جاتی ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ تقریباً 1.6 کلومیٹر طویل دو رویہ سڑک ہے۔ اس منصوبے پر بجلی کے کھمبوں کی منتقلی سمیت کام جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق باقی کھمبے 10 نومبر تک منتقل کرنے کا ہدف دیا گیا تھا۔
