جنوبی افریقہ نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے فیصلہ کن مقابلے میں آسٹریلیا کو 176 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی، اس کامیابی کے ساتھ ہی پروٹیز نے ٹیسٹ عالمی رینکنگ میں آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن بھی حاصل کرلی۔
نیولینڈز میں کھلیے گئے فیصلہ کن ٹیسٹ میں جنوبی افریقی بالرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 288 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی ٹیم کو دوسری اننگز میں محض 111 رنز پر ڈھیر کردیا۔
آسٹریلیا آخری روز جیت کی امید لے کر میدان میں اترا، تاہم اننگز کے پہلے ہی اوور میں دو اہم وکٹیں گرنے سے مہمان ٹیم دباؤ کا شکار ہوگئی۔ ابتدائی نقصان کے بعد آسٹریلوی بلے باز سنبھل نہ سکے اور ٹیم کا اسکور 62 رنز پر 8 وکٹوں تک پہنچ گیا۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے فاسٹ بالر کاگیسو ربادا نے تباہ کن بالنگ کرتے ہوئے پہلے ہی اوور میں میٹ رینشا اور مارنس لبوشین کو پویلین بھیج دیا۔ انہوں نے بعد ازاں ٹریوس ہیڈ کی وکٹ بھی حاصل کی۔
اس کارکردگی کے دوران ربادا نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 350 وکٹیں مکمل کرلیں۔ انہوں نے یہ سنگ میل صرف 13 ہزار 808 گیندیں کرانے کے بعد عبور کیا، جو گیندوں کی تعداد کے اعتبار سے 350 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا تیز ترین ریکارڈ ہے۔
اس سے قبل جنوبی افریقہ کے سابق فاسٹ بالر ڈیل اسٹین نے 14 ہزار 719 جبکہ پاکستان کے سابق کپتان وقار یونس نے 14 ہزار 905 گیندیں کرانے کے بعد 350 ٹیسٹ وکٹیں مکمل کی تھیں۔
جنوبی افریقہ کی فتح میں اسپنر سائمن ہارمر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے دوسری اننگز میں صرف 16 رنز دے کر 6 آسٹریلوی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور اپنے کیریئر کی بہترین بالنگ کا مظاہرہ کیا۔
اس طرح جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ میں شاندار کامیابی حاصل کرکے نہ صرف سیریز اپنے نام کی بلکہ ٹیسٹ عالمی رینکنگ میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ ربادا کا عالمی ریکارڈ اور ہارمر کی میچ وننگ بالنگ اس تاریخی فتح کا نمایاں حصہ بن گئے۔



