لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی بہنوں کی نظربندی میں توسیع کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے نورین نیازی کے علاج معالجے اور فیملی ملاقات کے لیے الگ متفرق درخواست دائر کرنے کی ہدایت کر دی۔
یہ درخواست علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز خان اور نورین نیازی کی بیٹی سکینہ نیازی کی جانب سے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 3 بہنوں، علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں توسیع کے خلاف دائر کی گئی تھی جس پر جسٹس عبہر گل خان نے کیس کی سماعت کی۔
تینوں خواتین کو 20 اور 21 ستمبر کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس (ایم پی او) کے تحت نظر بند کیا گیا تھا جبکہ 30 روز مکمل ہونے کے بعد پنجاب حکومت نے 26 اکتوبر کو نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع کی تھی۔
آج سماعت کے دوران ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ نورین نیازی شدید بیمار ہیں اور اس وقت ہسپتال کے آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں، جہاں نہ تو ان کے اہل خانہ اور نہ ہی وکلاء کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ 70 سالہ نورین نیازی کو 2 روز قبل طبیعت بگڑنے پر کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کیا گیا تھا۔
سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ نورین نیازی اس وقت ہسپتال میں ہیں یا انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ یاد رہے کہ خاندانی ذرائع کے مطابق نورین نیازی کو دل میں تکلیف کی شکایت کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ روز وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے سینیٹ میں دعویٰ کیا کہ نورین نیازی کے تمام میڈیکل ٹیسٹ نارمل آئے ہیں۔
نورین نیازی کی بیماری کا معاملہ اٹھانے پر جج نے ان کے وکلاء کو اس حوالے سے الگ متفرق درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 72 سالہ علیل خاتون نورین نیازی کو اس طرح قید میں رکھنا کسی بھی طرح سے قابلِ جواز اور انسانیت کے منافی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتال کے آئی سی یو میں داخل ایک بیمار خاتون کے بارے میں یہ کہنا کہ رہائی کے بعد وہ امن عامہ میں خلل ڈال سکتی ہیں سراسر بے معنی اور مضحکہ خیز بات ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کارروائی کا مقصد عمران کان اور ان کے پورے خاندان کو اذیت دینا اور پوری قوم کو خوف زدہ کرنا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ قانون کے نام پر اس بربریت کا سامنا صرف اس خاندان کو نہیں بلکہ ملک بھر کے سینکڑوں خاندانوں کو ہے جن کے پیاروں کو بغیر کسی ٹھوس جواز کے تاریک کوٹھریوں میں بند کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر 30 دنوں کا حراستی حکم دیا گیا تھا، جس میں بعد ازاں بغیر کسی نئے ثبوت یا غور و فکر کے مزید 30 دنوں کا اضافہ کر دیا گیا، جو کہ ڈپٹی کمشنر کو حاصل اختیارات کے غلط استعمال اور ظالمانہ قوانین کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نورین نیازی کو فوری طور پر فیملی تک رسائی اور تمام طبی ریکارڈ فراہم کیے جائیں۔
