کاکروچ جنتا پارٹی نے بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف جاری احتجاج حکومت سے مذاکرات کے بعد ختم کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔
اس اعلان سے چند گھنٹے قبل بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے احتجاجی طلبا کے مطالبے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
کاکروچ پارٹی کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور مطالبات کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔
“Our demands were not radical but basic, and the government has now accepted them.”
– CJP’s Saurav Das pic.twitter.com/N9EQGi9jVe
— News Arena India (@NewsArenaIndia) July 25, 2026
یہ مظاہرے گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری تھے، جن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد امتحانی نظام میں شفافیت اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہی تھی۔
احتجاج کا مرکزی مطالبہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ تھا، جس کے بعد مظاہرین کے دیگر مطالبات منظور کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔
بھارتی وفاقی وزیر جے پہ نڈا، جتیندر سنگھ اور طلبا رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت قواعد کے مطابق NEET امتحان کی منسوخی کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو “باوقار معاوضہ” فراہم کرے گی، جبکہ مظاہرین کے خلاف درج تمام مقدمات بھی واپس لیے جائیں گے۔
کاکروچ پارٹی کے ترجمان سارو داس نے اعلان کیا کہ چونکہ حکومت نے ہمارے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، ہم فوری طور پر اپنا احتجاج ختم کرتے ہیں اور تمام شرکاء سے اپیل کرتے ہیں کہ پُرامن طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جائیں۔
احتجاجی تحریک نے ملک بھر میں ہزاروں طلبہ کو متحرک کیا اور بڑی اپوزیشن جماعتوں کی حمایت بھی حاصل کی، جس کے باعث حکومت پر شدید دباؤ بڑھا اور بالآخر مطالبات تسلیم کرنا پڑے۔
طلبا کے مطالبات کیا تھے؟
یہ احتجاج میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کے انکشاف کے بعد شروع ہوا تھا۔ پرچے لیک ہونے کے باعث 20 لاکھ سے زائد امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا، جس نے ملک کے تعلیمی نظام کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا۔
مظاہرین کے 6 بنیادی مطالبات تھے:
- پرچے لیک کرنے والے منظم نیٹ ورکس کے لیے کم از کم سزا 3 سال سے بڑھا کر 10 سال کی جائے، غیر قانونی آمدن ضبط کی جائے، جرمانے بڑھائے جائیں اور ملوث افراد پر مستقل پابندی عائد کی جائے۔
- ہر پرچہ لیک کے معاملے پر متعلقہ وزیر پارلیمنٹ میں وضاحت دیں اور کیے گئے اقدامات سے ایوان کو آگاہ کریں۔
- ہر پرچہ لیک پر ازخود سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں انکوائری کرائی جائے، 30 روز میں رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے اور اگلے 30 روز میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی مکمل کی جائے۔
- امتحانات کی خرابیوں کی تحقیقات، امیدواروں کو ریلیف دینے اور لازم ہدایات جاری کرنے کے اختیارات کے ساتھ آزاد امتحانی محتسب اور وینڈر اتھارٹی کا قیام
- ہر امتحانی ادارے کا آڈٹ ہو، اور عوام کو جانچ پڑتال کا اختیار ہو
- تام ریاستوں کے لیے ماڈل فریم ورک قائم کیا جائے تاکہ وہاں بھی امتحانات کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ احتجاج کے دوران جو نئے مطالبات سامنے آئے تھے ان میں پیپر لیک ہونے کی وجہ سے خودکشی کرنے والے طلبا کے اہلِ خانہ کے لیے ایک کروڑ بھارتی روپے، اور ملک کے کسی بھی حصے میں اس معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف حکومتی کارروائیاں بند کرنا شامل تھے۔
