بھارت میں ایک ملازم نے تنخواہ میں 10 ہزار روپے کم دینے پر بدلہ لینے کے لیے ٹیکسٹائل مارکیٹ میں آگ لگا کر اسے 24 کروڑ کا نقصان پہنچا دیا۔
بھارتی گجرات کے شہر سورت میں 8 ستمبر اور 9 ستمبر کی درمیانی شب ایک ٹیکسٹائل مارکیٹ کی چھٹی منزل پر اچانک آگ بھڑک اٹھی جس پر تقریباً 14 گھنٹے بعد قابو پایا گیا۔
آتشزدگی کے نتیجے میں تقریباً 24 کروڑ روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا، ابتدائی طور پر اسے ایک حادثہ سمجھا گیا تاہم بعد میں انکشاف ہوا کہ آگ کسی شارٹ سرکٹ کی وجہ سے نہیں لگی بلکہ ایک رنجیدہ ملازم کی انتقامی کارروائی کا نتیجہ تھا۔
سورت کی ٹیکسٹائل مارکیٹوں میں آتشزدگی کے واقعات کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ وہاں بڑی مقدار میں آتش گیر کپڑے کے گٹھے ذخیرہ کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ابتدا میں اس واقعے کو بھی ایک حادثہ تصور کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جس میں چہرے پر رومال باندھے ایک شخص کپڑوں کے گٹھوں پر آتش گیر مائع چھڑک کر انھیں آگ لگا رہا تھا۔ واردات کے فوراً بعد وہ شخص موقع سے فرار ہو گیا۔
ونود پنڈت ساولے اکاؤنٹنٹ کے طور پر ملازم تھے
ملزم کی شناخت سی سی ٹی وی تصاویر کی مدد سے ممکن ہوئی۔ پولیس کے مطابق ملزم ونود پنڈت ساولے مارکیٹ میں دکان نمبر 639 میں قائم جگدمبا ٹیکسٹائلز میں اکاؤنٹنٹ کے طور پر ملازم تھے۔ انھیں 30 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ ملازمت چھوڑنے کے بعد ان کا اپنے آجر ہنومان پرساد سے بقایا 10 ہزار تنخواہ ادا نہ کئے جانے پر تنازع پیدا ہو گیا۔

سورت کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (کرائم) کرن راج واگیلا کے مطابق ملزم ونود پنڈت ساولے نے اپنے آجر سے بقایا تنخواہ نہ ملنے پر انتقاماً یہ آگ لگائی۔ کپڑوں کے گٹھوں کو آگ لگانے کے بعد ونود ساولے موٹر سائیکل پر موقع سے فرار ہو گیا۔
ملزم کی گرفتاری کیسے عمل میں لائی گئی؟
پولیس کے مطابق ملزم نے ڈنڈولی کے ایک پٹرول پمپ سے 150 روپے کا پٹرول خریدا اور شیام سانگنی ٹیکسٹائل کی دکان کے باہر رکھے کپڑوں کے پارسلوں پر چھڑک کر انھیں آگ لگا دی۔ واردات کے بعد وہ راجستھان میں کھاٹو شیام مندر اور پھر ایودھیا چلا گیا۔ بعد ازاں جب وہ سورت واپس آ رہا تھا تو پولیس نے اسے ڈنڈولی پارک کے قریب گرفتار کر لیا۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ واقعے کے روز رات تقریباً نو بجے وہ ٹیکسٹائل مارکیٹ پہنچا اور دکان بند ہونے تک پانچویں منزل پر موجود رہا۔ آجر کے چلے جانے کے بعد اس نے آگ لگا دی۔ اگلے روز جب اس کی شناخت سامنے آنے لگی تو اس نے اپنا موبائل فون بند کر دیا۔
پولیس کی گرفتاری کے بعد ملزم نے اعتراف کیا کہ مالک نے اس کی 10 ہزار بقایا تنخواہ روک رکھی تھی اور سب کے سامنے اسے ڈانٹا تھا،جس کا بدلہ لینے کے لیے اس نے آگ لگائی۔

پولیس کے مطابق ونود نے اپنی واجب الادا رقم حاصل کرنے کے لیے متعدد بار فون پر رابطہ کیا اور آجر سے ملاقات بھی کی، لیکن اسے مسلسل ٹرخایا جاتا رہا۔ بالآخر اس نے اپنے سابق آجر کو سبق سکھانے کا منصوبہ بنایا۔
ادھر خفیہ اطلاع ملنے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ونود ساولے کو سورت کے ڈنڈولی علاقے سے گرفتار کر لیا۔


