غزہ میں اسرائیلی حملوں سے متاثرہ عمارت گرنے سے 5 بچوں سمیت 14 فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔
ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے تلے کم از کم 100 فلسطینیوں کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں تقریباً 50 بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق ملبے سے اب تک 14 لاشیں نکالی جا چکی ہیں ، گرنے والی عمارت سے 12 افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے، بھاری مشینری نہ ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔
غزہ میونسپلٹی کے ترجمان حسنی محنا نے انادولو سے گفتگو میں بتایا کہ بے گھر خاندانوں کو پہلے خیمہ بستیوں میں بسایا گیا تھا بعد میں اس منہدم ہونے والی عمارت میں رہائش پذیر ہوئے۔
سول ڈیفنس ٹیم کے ایک سپروائزر محمد ابو دان جو ملبے سے متاثرین کو نکالنے کی کارروائی میں مصروف تھے نے بتایا کہ 10 سے زائد خاندان اس عمارت میں رہائش پذیر تھے۔ بے گھر افراد کو وہاں رہنے پر مجبور ہونا پڑا کیونکہ ان کے لیے کوئی اور پناہ گاہ دستیاب نہیں تھی۔
غزہ سول ڈیفنس کے مطابق آج صبح گرنے والی عمارت اسرائیلی حملوں کی وجہ سے شدید خستہ حالی کا شکار تھی، عمارت کا ملبہ قریبی گھروں اور بے گھر افراد کے خیموں پر جا گرا جس کی وجہ سے جانی نقصان ہوا۔ عمارت کے ملبے تلے تقریباً 100 افراد دبے ہوئے ہیں۔
غزہ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسال نے بتایا کہ غزہ میں مسلسل بمباری کے باعث ہزاروں کمزور اور نیم تباہ شدہ عمارتیں رہائش کے لیے انتہائی خطرناک ہو چکی ہیں۔ غزہ کی پٹی میں تقریباً 2 ہزار خستہ حال عمارتیں منہدم ہونے کے خطرے کے باوجود بے گھر فلسطینیوں کے زیرِ استعمال ہیں۔
محمود بسال نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے تلے دب جانے والے فلسطینیوں کو نکالنے کے لیے امدادی ٹیموں کو ضروری مشینری اور آلات فراہم کیے جائیں۔
دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت نے شہداء اور زخمیوں کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 1,375 فلسطینی شہید اور 4,686 زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق تازہ اعداد و شمار کے بعد 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 74 ہزار ہو گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔



