بلوچستان ہائیکورٹ نے افغان شہریوں کی جانب سے پاکستان میں میڈیکل تعلیم جاری رکھنے کی درخواست خارج کردی۔
جسٹس محمد عامر نواز رانا اور جسٹس عبدالقیوم لہڑی پر مشتمل بلوچستان ہائیکورٹ کے بینچ نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ غیر ملکی شہریوں کو ریاستی پالیسی کے خلاف پاکستان میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کا مستقل حق حاصل نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ غیر ملکی شہریوں کی واپسی اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات ریاستی انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں لہٰذا عدالت انتظامی اور ریاستی پالیسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ افغان شہریوں کے ساتھ انسانی وقار، انصاف اور قانون کے مطابق سلوک کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے تاہم انسانی بنیادوں پر کسی غیر ملکی کو پاکستان میں مستقل قیام یا تعلیم جاری رکھنے کا حق حاصل نہیں ہوجاتا۔
بلوچستان ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی پاکستان میں قیام یا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کا مستقل قانونی حق پیدا نہیں ہوتا۔
عدالت نے متاثرہ افغان شہریوں کو ہدایت کی کہ اگر انہیں کسی معاملے میں شکایت یا مسئلہ درپیش ہے تو وہ اپنی شکایات کے ازالے کیلئے افغانستان کے سفارتخانے سے رجوع کریں۔
افغان شہریوں کی واپسی
پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں، بالخصوص افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل نومبر 2023 میں شروع کیا تھا، حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں قیام کے لیے درست ویزا یا قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان شہری رہ سکتے ہیں جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو واپس جانا ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق 2023 سے 2026 کے دوران 20 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان سے افغانستان واپس بھیجے جاچکے ہیں، صرف پنجاب میں ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد افغان شہریوں کی وطن واپسی کی گئی۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی اور سکیورٹی خطرات کے باعث غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے جبکہ افغانستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ افغان شہریوں کی واپسی کا معاملہ مزید حساس ہوگیا ہے، پاکستان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور غیر قانونی امیگریشن کے معاملات کے تحت یہ پالیسی جاری رہے گی جبکہ اقوام متحدہ اور بعض انسانی حقوق کے اداروں نے رجسٹرڈ افغان مہاجرین سمیت بعض افراد کی گرفتاری یا بے دخلی کی اطلاعات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسی پالیسی کے تناظر میں بلوچستان ہائیکورٹ کا حالیہ فیصلہ بھی اہم ہے، جس میں عدالت نے قرار دیا کہ غیر ملکی شہریوں کو ریاستی پالیسی کے خلاف پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کا مستقل حق حاصل نہیں تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ افغان شہریوں کے ساتھ انسانی وقار، انصاف اور قانون کے مطابق سلوک لازم ہے۔
یوں افغان شہریوں کی میڈیکل تعلیم سے متعلق درخواست کا فیصلہ پاکستان کی وسیع تر افغان شہریوں کی واپسی کی پالیسی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جبکہ عدالت نے انسانی بنیادوں پر قیام یا تعلیم جاری رکھنے کو مستقل قانونی حق تسلیم نہیں کیا۔



