وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکام نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مبینہ طور پر منسلک ایک “نیٹ ورک” کا سراغ لگایا ہے، جس میں اسلحہ ڈیلر بھی شامل ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری نے جون میں آزاد جموں و کشمیر میں جیک کو کالعدم قرار دینے کے حکومتی فیصلے کا حوالہ دیا، انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد کئی سوالات اٹھائے گئے، جن میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ آیا یہ پابندی سیاسی بنیادوں پر عائد کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ”اس وقت بھی آپ کو بتایا گیا تھا کہ انہیں ہم نے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ کالعدم قرار دیا ہے، ہمارے پاس پہنچنے والے شواہد کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا، جن کی تحقیقات جاری ہیں اور تحقیقات کے دوران بہت سی چیزیں سامنے آئی ہیں۔”
وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں افغانستان سے اسلحہ پہنچایا جارہا ہے، پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے پریس کانفرنس میں مختلف ویڈیوز بھی چلائیں۔
طلال چوہدری نے بتایا کہ ٹیرر کرائم نیٹ ورک پاکستان میں دہشت گردی کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے، نیٹ ورک کو پکڑنے کا آغاز ایک ضیا نامی شخص سے ہوا، یہ شخص آزاد کشمیر کا ہی رہنے والا ہے جو 8 سے 10 سالوں سے اسلحے کا کام کررہا ہے،یہ شخص پچھلے 2 سال سے کالعدم ایکشن کمیٹی کے قریبی لوگوں کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس شخص کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ہماری سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی،اس کے موبائل سے تمام معلومات ملیں، ضیا کا رابطہ ایک ماجد نامی شخص سے تھا، ماجد ، سردار امان جو کالعدم ایکشن کمیٹی کے سرگرم رکن ہیں ، اس کا کارخاص ہے، پریس کانفرنس میں دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ بھی چلائی گئی ۔
وزیر مملکت نے کہا کہ ضیا نامی شخص کے افغانستان کے زرشاد نامی شخص کے ساتھ رابطے ہیں جو انہیں اسلحہ فراہم کرتا ہے، زرشاد افغانستان کے مختلف شہروں سے آپریٹ کرتا ہے، اکبر نامی شخص جو سرکاری ملازم ہے وہ بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہے، اسے ہر پھیرے کے پیسے ملتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسلحہ افغانستان سے باڑہ (خیبرپختونخوا) پہنچتا ہے، پھر اسے آزاد کشمیر میں پہنچایا جاتا ہے جس میں مقامی سہولت کاری بھی شامل ہے۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات پورے یا جزوی طور پر مانے گئے اور ان پر عملدرآمد بھی شروع ہوا، اس کے بعد آپ اچانک لانگ مارچ کا اعلان کردیں ، پھر ایسا ماحول بنایا گیا کہ وہاں الیکشن نہ ہوسکیں، شک تو بنتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر الیکشن کے میرپور میں ہونے والے پہلے مرحلے میں لوگ بڑی تعداد میں باہر نکلے تو اسی دن تشدد کا واقعہ رونما ہوگیا،یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔اس کے پیچھے پوری مہم جاری تھی۔یہ تیاری کوئی ایک دن میں نہیں ہوئی،2 سال سے ضیا انہیں اسلحہ فراہم کررہا تھا۔
پریس کانفرنس کے آخرمیں ضیا نامی شخص کا پورا اعترافی ویڈیو بیان بھی چلایا گیا۔



