وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں افغانستان سے اسلحہ پہنچایا جارہا ہے، نام نہاد ایکشن کمیٹی (جیک)کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کیخلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں،پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے،اس حوالے سے پریس کانفرنس میں مختلف ویڈیوز بھی چلائی گئیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ٹیرر کرائم نیٹ ورک پاکستان میں دہشت گردی کیلئے سہولت فراہم کرتا ہے، نیٹ ورک کو پکڑنے کا آغاز ایک ضیا نامی شخص سے ہوا، یہ شخص آزاد کشمیر کا ہی رہنے والا ہے جو 8 سے 10 سالوں سے اسلحے کا کام کررہا ہے،یہ شخص پچھلے 2 سال سے جیک(عوامی ایکشن کمیٹی) کالعدم کے قریبی لوگوں کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس شخص کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ہماری سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی،اس کے موبائل سے تمام معلومات ملیں ،ضیا کا رابطہ ایک ماجد نامی شخص سے تھا، ماجد ، سردار امان جو جیک (عوامی ایکشن کمیٹی) کالعدم کے سرگرم رکن ہیں ، اس کا کارخاص ہے، پریس کانفرنس میں دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ بھی چلائی گئی ۔
وزیر مملکت نے کہا کہ ضیا نامی شخص کے افغانستان کے زرشاد نامی شخص کیساتھ رابطے ہیں جو انہیں اسلحہ فراہم کرتا ہے،زرشاد افغانستان کے مختلف شہروں سے آپریٹ کرتا ہے۔اکبر نامی شخص جو سرکاری ملازم ہے وہ بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہے ۔اسے ہر پھیرے کے پیسے ملتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسلحہ افغانستان سے باڑہ (خیبرپختونخوا) پہنچتا ہے، پھر اسے آزاد کشمیر میں پہنچایا جاتا ہے جس میں مقامی سہولت کاری بھی شامل ہے۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات پورے یا جزوی طور پر مانے گئے اور ان پر عملدرآمد بھی شروع ہوا، اس کے بعد آپ اچانک لانگ مارچ کا اعلان کردیں ، پھر ایسا ماحول بنایا گیا کہ وہاں الیکشن نہ ہوسکیں، شک تو بنتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر الیکشن کے میرپور میں ہونے والے پہلے مرحلے میں لوگ بڑی تعداد میں باہر نکلے تو اسی دن تشدد کا واقعہ رونما ہوگیا،یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔اس کے پیچھے پوری مہم جاری تھی۔یہ تیاری کوئی ایک دن میں نہیں ہوئی،2 سال سے ضیا انہیں اسلحہ فراہم کررہا تھا۔
پریس کانفرنس کے آخرمیں ضیا نامی شخص کا پورا اعترافی ویڈیو بیان بھی چلایا گیا۔



