سعودی عرب کی سول ڈیفنس نے منگل کو مکہ مکرمہ، طائف اور جدہ میں ممکنہ خطرے کے حوالے سے مختصر الرٹ جاری کردیا تاہم چند منٹ بعد ہی حکام نے خطرہ ٹل جانے کا اعلان کردیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یمن کے حوثیوں کے ساتھ جاری کشیدگی میں اضافے کے دوران مکہ مکرمہ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے ممکنہ خطرے کا الرٹ جاری کیا گیا۔
سعودی سرکاری ٹی وی کے مطابق سول ڈیفنس کی جانب سے جاری مختصر الرٹ میں مکہ مکرمہ کے علاوہ طائف اور جدہ کے علاقوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
Alert: The danger has passed in Jeddah Governorate. For your safety, continue following #CivilDefense instructions and avoid gathering and filming. In case of emergency, call (911). pic.twitter.com/7AZE2ttpiM
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) September 15, 2026
تاہم الرٹ جاری ہونے کے چند ہی منٹ بعد سعودی حکام نے بتایا کہ خطرہ ٹل گیا ہے، رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے کیوں بڑھ گئے؟
یمن کے ایران نواز حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرچکی ہے، رائٹرز کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں غیر رسمی جنگ بندی کے بعد کئی برس تک سعودی سرزمین پر بڑے حملوں کا سلسلہ تقریباً رکا رہا تاہم جولائی 2026 میں حوثیوں نے دوبارہ سعودی اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا۔
ستمبر میں صورتحال مزید سنگین ہوگئی، 8 ستمبر کو حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں چار شہروں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے اور بعض توانائی تنصیبات کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
اس کے بعد 14 ستمبر کو حوثیوں نے خمیس مشیط میں سعودی فوجی ایئربیس پر درجنوں میزائل اور ڈرونز داغنے کا دعویٰ کیا، حوثیوں کے مطابق حملے میں طیاروں کے ہینگرز، ریڈار سسٹمز، رن ویز اور اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے مطابق ان حملوں میں 13 شہری زخمی ہوئے۔
15 ستمبر کو بھی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر نئی لہر میں حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، رائٹرز کے مطابق حوثی مغربی یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشنیں مضبوط کر رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب ان کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کرچکا ہے۔
خطے کی جنگ سے تعلق
موجودہ کشیدگی صرف سعودی عرب اور حوثیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا حصہ بن چکی ہے، حوثی گروپ نے سعودی اہداف پر حملوں کو یمن میں سعودی فضائی کارروائیوں کا جواب قرار دیا ہے جبکہ سعودی عرب حوثیوں کی پیش قدمی اور میزائل و ڈرون حملوں کو اپنے لیے بڑا سکیورٹی خطرہ سمجھتا ہے۔
صورتحال کی حساسیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں پیریم جزیرے سمیت اہم علاقوں میں پیش قدمی کی ہے، یہ علاقہ باب المندب کے قریب واقع ہے جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔
اسی پس منظر میں مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف کے لیے جاری ہونے والے تازہ الرٹس کو سعودی عرب میں سکیورٹی صورتحال کی سنگینی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ حکام نے چند منٹ بعد ان علاقوں میں خطرہ ٹل جانے کا اعلان کردیا۔
سعودی عرب میں ایمرجنسی وارننگ سے متعلق شہریوں کیلئے اہم ہدایات جاری
سعودی عرب میں نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم فار ایمرجنسیز سے وارننگ پیغام موصول ہونے کی صورت میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
سعودی حکام کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق وارننگ موصول ہونے پر شہری پرسکون رہیں اور سرکاری اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر قریب ترین محفوظ مقام، عمارت یا کھڑکیوں سے دور اندرونی کمرے میں منتقل ہوجائیں اور خطرہ ٹلنے تک وہیں موجود رہیں۔
لوگوں کو گھر یا عمارت سے باہر نہ نکلنے، کھلے مقامات، کھڑکیوں اور شیشوں سے دور رہنے جبکہ بالکونیوں اور چھتوں پر کھڑے نہ ہونے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
A warning has been issued by the National Early Warning Platform in Mecca City to alert of a potential danger. Please follow the instructions below: pic.twitter.com/IwvWhhKMan
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) September 15, 2026
حکام کے مطابق اگر کوئی شخص وارننگ کے وقت باہر ہو تو اسے قریبی عمارت میں داخل ہوجانا چاہیے یا کسی مضبوط رکاوٹ کے پیچھے پناہ لینی چاہیے، شہریوں کو ہجوم اور خطرناک مقامات پر جانے سے گریز کرنے اور صورتحال کی تصاویر بنانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
ڈرائیونگ کے دوران وارننگ موصول ہونے کی صورت میں گاڑی سڑک کے کنارے محفوظ مقام پر روکنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ پلوں اور بلند عمارتوں سے دور رہنے کا بھی کہا گیا ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں ایمرجنسی نمبر 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 998 پر رابطہ کیا جائے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہنگامی صورتحال میں صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی ہدایات پر اعتماد کریں اور متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔



